ایک شرط پر تمہارے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرونگا اگر تمہاری بارات میں 30 سال سے زائد عمر کا کوئی شخص نہ آئے ۔۔۔ عشق میں مبتلا ایک نوجوان کو پھر اسکے بوڑھے باپ نے اس مشکل سے کیسے نکالا تھا ؟ ایک سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) دو مختلف دیہاتوں کے رہائشی لڑکا اور لڑکی یونیورسٹی میں ہم جماعت تھے۔ دیہاتی پسِ منظر کی مماثلت کے باعث دونوں میں اچھی شناسائی ہو گئی، جو شادی کے فیصلے پر آٹھہری۔لڑکی نے والدین سے بات کی۔پہلے تو وہ رضا مند نہ ہوئے، تاہم لڑکی کا باپ مان گیااور اس نے

لڑکے کو ملنے کا پیغام بھیجا۔نوجوان صحافی نواز خالد عاربی اپنی ایک تحریر میں رقمطراز ہیں ۔۔۔۔۔لڑکا پیغام ملتے ہی مروّت و لحاظِ پدرانہ پسِ پشت ڈالتے ہوئے لڑکی کے گھر جا پہنچا۔ لڑکی کے والد سے ملاقات ہوئی،خاندانی پس منظر، مالی اور زرعی حیثیت وغیرہ کو جان لینے کے بعد لڑکی کے والد نے لڑکے کو اپنا داماد بنانے کی ہاں اس شرط پرکی کہ بارات میں 30 سال سے زائد عمر کا کوئی فرد نہیں آئے گا۔جنونِ جذبات میں لڑکے نے شرط تسلیم کر لی۔گھر پہنچ کر اس نے والدین کو اپنے فیصلے اور ہونے والے سسرال کی شرط سے آگاہ کیا۔ ضعیف والدین پر اکلوتی اولاد کا فیصلہ پہاڑ بن کر گرا۔ ماں زارو قطار رونے لگی کہ مَیں نے تو اپنی خوبصورت بھانجی کا رشتہ پکّا کر رکھا تھا۔ بوڑھے نے روتی ہوئی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، تو دل چھوٹا نہ کر، بیٹے کی اپنی زندگی ہے، اب ہمارا حق شاید اس پر نہیں ہے۔یہ کہتے وقت اس کی اپنی آنکھوں سے دوموٹے موٹے آنسو گر ے، جنہیں اس نے پگڑی کے لٹکتے پَلو سے جھَٹ سے صاف کیا اور بولا، بیٹا! ہمیں آپ کافیصلہ منظور ہے۔ بارات روانہ ہونے لگی تو باپ نے کہا بیٹا! لڑکی کے والد کی شرط ہمارے دیہاتی وسیب میں انوکھی ہے۔ اس میں کہیں کوئی بد نیتی پوشیدہ نہ ہو، بہتر ہے مجھے بارات کے ساتھ لے چل۔ بیٹے نے انکار کیا تو باپ نے کہا جو دیگیں تحائف سے بھری لے جا رہے ہو، اُن کے ساتھ ایک خالی دیگ میں مجھے بھی رکھ لو،

اگرتمہیں وہاں کوئی مسئلہ پیش آئے تو دیگ کے پاس آنا، ڈھکن تھوڑا سا ہٹا کر مجھے بتانا، ہو سکتا ہے مَیں تمہارے کام آجاؤں۔ کافی سوچ بچار کے بعد بیٹا باپ کوایک خالی دیگ میں ساتھ لے جانے پر راضی ہو گیا۔ بارات پہنچتے ہی لڑکی کے والد نے لڑکے کے سامنے اپنی دوسری شرط رکھ دی کہ اگر ہر باراتی فرداً فرداًپورا ایک بکرا کھائے گا تو مَیں اپنی بیٹی کو بیاہ دوں گا،وگرنہ آپ جا سکتے ہیں۔ یہ شرط سنتے ہی لڑکے کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ چپکے سے دیگ کے پاس آیا، والد سے ماجرا بیان کیا۔ والد نے کہا، انہیں کہومجھے شرط منظور ہے، مگر میری بھی اب ایک شرط ہے۔ آپ ایک وقت میں صرف ایک بکرا پکا کر باراتیوں کے سامنے رکھیں گے۔ یہ بات سنتے ہی لڑکی کے والد نے کہا، یہ بات تم نہیں کر رہے، کوئی بوڑھا کر رہا ہے، اسے سامنے لاؤ۔ پہلے تو لڑکے نے ماننے سے انکارکیا، مگر لڑکی کے والد کے اس وعدے پر کہ اب مَیں بیٹی ضرور بیاہ دوں گا، بتاؤ بوڑھا کہاں ہے،تو بیٹے نے ہونے والے سسر کا ہاتھ پکڑا، دیگ کے پاس لا کر ڈھکن ہٹا دیا…… لڑکی کے والد نے کہا،تم خوش قسمت ہو کہ اس مشکل سے تمہیں بوڑھے نے نکال لیا، اور مجھے یقین ہے کہ دیگ میں آنے کا مشورہ بھی بوڑھے کااپنا ہو گا“۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد میرے ریٹائرڈ دوست نے کمرے کی دیواروں پر نگاہ دوڑائی اورآہ بھرتے ہوئے بولے: ”اب تو بابوں کو دیگ میں لے جانے کا زمانہ بھی نہیں رہا۔ مَیں اور میری طرح کے بوڑھے ان سنسان کمروں کی دیگوں میں پڑے پک رہے ہیں، یا پھر ماضی کی سوچوں اور حال کی محرومیوں کی دیگیں ہمارے اندر پک رہی ہیں …… وقت کافی بیت چکا تھا۔ مَیں نے دوبارہ آنے کے وعدے پر اجازت لی۔ راستے بھر سوچتا آیا کہ سنسان کمرے کے اندر سوچوں کی دیگ میں پکنا کتنابڑا عذاب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں