جوبائیڈن کی ممکنہ جیت پر کشمیر میں خوشی مگر بھارت میں کیا صورت حال ہے؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی بھاری اکثریت سے ممکنہ جیت پر بھارت میں صف ماتم جبکہ کشمیر میں اظہار مسرت کیا جارہا ہے، جوبائیڈن اخلاقی اقدارپر مبنی سیاست اور سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان کا دومرتبہ دورہ کیا اور ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکا میں 59 واں صدارتی انتخابات کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے، انتخابات میں آئندہ صدر کیلئے نامزد امیدوارجوبائیڈن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح الیکٹورل ووٹوں کی برتری حاصل ہے، صرف چار ریاستیں جارجیا، نیواڈا، پنسلوینیا فیصلہ کن ہیں، جوبائیڈن 270 الیکٹورل ووٹوں کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ابھی تک صرف 213 الیکٹورل ووٹ ہیں۔بھارتی ووٹوں کی برتری کے وجود جوبائیڈن نے ابھی تک اپنی جیت کا اعلان نہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک ایک ووٹ کی گنتی کی جائے گی، جبکہ ریپبلکن کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جیسے جیسے وہ انتخابات اور صدر کی دوڑ سے باہر ہوتے جارہے ہیں ویسے ہی ان کے حواس بھی جواب دیتے جارہے ہیں، انہوں نے ووٹوں میں دھاندلی قراردی اور کہا کہ وہ سپریم کورٹ جائیں گے ۔کبھی بیان دیتے ہیں ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔ لیکن اس کے برعکس ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن انتہائی صبر اور حوصلے سے کام رہے ہیں۔ جوبائیڈن کی ممکنہ جیت کو اگر پاکستان اور بھارت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی طرح پاکستان اور بھارت میں سیاست اور خطے کے حالات پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ کیونکہ ڈیموکریٹک کی پالیسیاں اور سوچ مساوی نظام اور سویلین بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔جوبائیڈن جو کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پاکستان کا 2008ء اور2011ء میں دوبار دورہ کرچکے ہیں، کیری لوگر بل کی مد میں پاکستان کوڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد دلانے پر ان کو ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر بھی ان کا غیرجانبدار مئوقف رہا ہے، انہوں نے 2019ء میں جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا تو اس کی بھرپور مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس حیثیت کو واپس کیا جائے۔اب ان کی جیت سے بھارت کے زیرتسلط کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔ جوبائیڈن کی جیت سے امریکا اسٹیبلشمنٹ کو ٹرمپ کی طرح انہیں دنیا میں متعارف کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا ایک طویل سیاسی بیک گراؤنڈ ہے۔ وہ دنیا کے ماضی اور موجودہ حالات کو بڑی اچھی طرح جانتے بھی ہیں، سمجھتے بھی ہیں، اور ان کا حل نکالنے کی سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں