میاں صاحب : اگر آپ حکومت میں آ بھی گئے تو ہمارا ملک آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا ۔۔۔۔2008 کے الیکشن سے پہلے کس ملک کے سفیر نے نواز شریف کی رہائش گاہ پر انہیں کھری کھری سنا دی تھیں ؟ ایک یادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) میاں نواز شریف کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ”ووٹ چوری‘‘ کے مقدمے کی ابتدا ابھی سے کر دیتے ہیں اور اس کیلئے فردِ جرم اور ضمنیوں میں جن گواہان کی فہرست شامل کر رہا ہوں ان میں اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، اعتزاز احسن، اسفند یار ولی خان، آفتاب شیر پائو

اور مولانا فضل الرحمن جیسی قابل احترام سیاسی شخصیات شامل ہیں۔نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جن معزز حضرات کے ناموں کا حوالہ دیا ہے ان سب کے مئی 2013ء کے انتخابات کی شفافیت پر تحفظات کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ بن کر ملک بھر کے میڈیا ہائوسز کے آرکائیوز میں موجود ہیں۔ ان تمام لیڈران نے کھل کر مئی 2013ء میں ہونے والے انتخابات کے نتائج‘ جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز برسراقتدار آئی اور نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے‘ کو جعلی اور مشکوک قرار دیا اور یہ بیانات روایتی یا سرسری یا ایک آدھ دن کیلئے نہیں تھے بلکہ اگست 2014ء میں جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا شروع ہوا‘ اس وقت تک تسلسل سے دیے جاتے رہے۔ اس حوالے سے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا ریکارڈدیکھا جا سکتا ہے۔ ووٹ چرانے اور جعلی انتخابات کی فردِ جرم عائد کر کے بددیانتی کا سرٹیفکیٹ دینے والی ایک اہم ترین شخصیت اس وقت کے صدر بھی ہیں۔ گیارہ مئی 2013ء کو ہونے والے عام انتخابات میں میاں نواز شریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تو اس وقت کے صدرِ مملکت نے انتخابات کے تیسرے روز لاہور بلاول ہائوس میں سینئرمیڈیا پرسنز سے بات چیت کرتے ہوئے ان نتائج کو شفاف قرار دینے کے بجائے کہا تھا ”یہ ریٹرننگ افسران (آر اوز)‘‘ کا الیکشن تھا۔ووٹ کی مبینہ چوری کا اس مقدمے میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی گواہی بھی شامل کرتے ہوئے ان کی اُس پریس کانفرنس کی ریکارڈنگ اور اخبارات میں شائع بیانات لف کئے جائیں‘ جن میں وہ 2008ء کے انتخابات کی حقیقت میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ ایک اہم ملک کے نائب صدر اور پاکستان میں اس ملک کے سفیر نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کسی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھا کہ آپ اگر یہ انتخابات جیت گئے تو بھی آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان تمام گواہیوں اور ثبوتوں کے ساتھ بسم اللہ کیجئے‘ دیر کس بات کی؟ ووٹ کی عزت کا مقدمہ درج کرائیے تاکہ پتا چل سکے کہ کون تھا جس نے پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کے لیے رقم وصول کی، کیوں2008ء کے انتخابات میں انٹرنیشنل لابی انہیں کامیاب کرانا چاہتی تھی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں