عمران خان بے بس ۔۔۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے کس کی مدد کی ضرورت پڑ گئی؟ غریبوں کی امیدوں پر پانی جیسی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کو نجی شعبے کے کندھے کی ضرورت پؑڑگئی، لو انکم سوسائٹی بنانی ہے تو20 فیصد گھر نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو دینا ہوں گے، پھاٹا نے لو اِنکم ہاؤسنگ سکیم کا آرڈنینس 2020 منظور کرا لیا۔ذرائع کے مطابق نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کیلئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو تاریخی

ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا گیا، جس کے لیے پنجاب حکومت نے فاٹا کے نئے آرڈیننس 2020 کی اب منظوری بھی دے دی ہے، نئےآرڈنینس کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز لو اِنکم سوسائٹیز سے صرف 20 پلاٹ دے کر ہر طرح کی چھوٹ حاصل کر سکیں گی، اس نئے آرڈنینس کے مطاق لو انکم سوسائٹی بنانی ہے تو20 فیصد گھر نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو دینا ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پھاٹا کی جانب سے نوٹیفائی کی گئی اراضی پر سوسائٹی بنانے کے لیے نیا آرڈیننس لایا گیا تھا، کنٹرول ایریا میں کوئی بھی لو اِنکم گھر بنا کر بیچ سکے گا، بدلے میں 20 گھر نیا پاکستان ہاؤسنگ گروپ کو دینا ہوں گے، اس نئے آرڈنینس کے بدلے سوسائٹیز کو حکومت سے ریلیف بھی ملے گا، سوسائٹیز بنانے کے لیے منظوری بھی جلد دی جائے گی جبکہ قواعد و ضوابط کا نفاذ لازمی ہوگا۔موجودہ حکومت نے اپنے منشور کے تحت کم آمدن والے طبقہ کو پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے لئے جامع کوششیں اور ٹھوس عزم کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کو ذمہ داری سونپی جس نے حکومتی اہداف کے مطابق مختلف سکیموں کا آغاز کیا، اتھارٹی نجی اراضی پر مشترکہ منصوبوں اور سرکاری اراضی پر حکومتی پروگراموں کے تحت ان سکیموں پر عمل پیرا ہے۔حکومت نے اپنے دو سال کے دوران گھروں کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں آسانیاں فراہم کر نے کیلئے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت نے دسمبر 2019ءمیں بھارہ کہو پراجیکٹ کے گرین انکلیو۔ 1 سمیت مختلف تعطل کا شکار منصوبوں کو بحال کیا اور درخواست گذاروں کو 3282 پلاٹ الاٹ کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں