امریکی صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے ، مگر یہ الیکٹورل کالج کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدارتی امیدوار کے انتخاب کو دنیا کا پیچیدہ ترین انتخاب کہا جا سکتا ہے، امریکا میں صدر کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹوں سے نہیں بلکہ ایک اور طریقے کار سے بھی ہوتا ہے جسے ’الیکٹورل کالج‘ کہا جاتا ہے۔امریکا میں عوامی ووٹوں کو اہمیت حاصل ہے

مگر یہ ضروری نہیں کہ زیادہ عوامی ووٹ لینے والا اُمیدوار ہی ملک کے اہم ترین عہدے پر نہیں بیٹھے۔امریکی الیکشن میں استعمال ہونے والے اس عمل کو سمجھنا مشکل ہے کہ الیکٹورل کالج کیا ہے؟ یہ کیوں عوامی ووٹوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ عمل ہوتا کیسے ہے۔الیکٹورل کالج عوام کی جانب سے منتخب کردہ 538 ارکان کا ایک گروہ ہے جنہیں ووٹرز انتخابات والے دن ہی منتخب کرتے ہیں جو بعد میں الیکٹورل کالج کے نام میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پھر وہی نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔امریکا کی تمام 50 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن سے مجموعی طور پر 538 الیکٹورل کالج ارکان منتخب ہوتے ہیں ، ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کا کوٹا مختص ہے اور سب سے زیادہ الیکٹورل کالج کے ارکان امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ہوتے ہیں جن کی تعداد 55 تک ہے ۔ان 538 الیکٹورل کالج میں سے اگر 270 ارکان کسی بھی اُمیدوار کو ووٹ دیں گے تو وہ ملک کا نیا صدر بن جائے گا، امریکی انتخابات میں الیکٹورل کالج 300 سال سے کام کرتا آ رہا ہے اور 18 سال سے زائد عمر رجسٹرڈ ووٹرز ان ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔الیکٹورل کالج کے ارکان کو پہلے ہی سیاسی جماعتیں نامزد کر چکی ہوتی ہیں، الیکٹورل کالج کا انتخاب ایسے ہی ہے جیسے کوئی سیاسی جماعت کسی انتخاب کے لیے اپنا اُمیدوار نامزد کرتی ہے، الیکٹورل کالج سے متعلق یہ طے ہے کہیہ ارکان کبھی شکست نہیں کھاتے ہیں۔جس ریاست میں جو اُمیدوار برتری حاصل کرلیتا ہے وہاں کے زیادہ الیکٹورل ووٹ اس کے پاس ہی چلے جاتے ہیں

لیکن الیکٹورل کالج کے ارکان باضابطہ طور پر دسمبر کے مہینے میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، حالیہ الیکشن میں الیکٹورل کالج کے ارکان 14 دسمبر کو باضابطہ طور پر ووٹ کاسٹ کریں گے، ان ووٹوں کی گنتی 6 جنوری کو کی جاتی ہے جس کے بعد حتمی طور پر کسی اُمیدوار کی کامیابی کی تصدیق کی جاتی ہے۔الیکٹورل کالج کے ارکان کے ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ قوانین کے مطابق تمام ریاستوں مختلف ہے ہیںکبھی کبھار توقعات کے برعکس بھی انتخابی نتائج نکلتے ہیں، عام ریاستوں کے الیکٹورل کالج ارکان اس ہی اُمیدوار کو اپنا ووٹ دیتے ہیں جس اُمیدوار کو مذکورہ ریاست سے زیادہ عوامی ووٹ ملے ہوں گے، یعنی اگر کسی صدارتی اُمیدوار کو ریاست کیلی فورنیا سے تمام عوامی ووٹ ملیں گے تو وہاں کے تمام الیکٹورل کالج ارکان بھی اسے ہی ووٹ دیں گے۔مگر ہر ریاستوں میں الیکٹورل کالج اس بات کے پابند نہیں ہوتے ہیں کہ وہ اس اُمیدوار کو ہی ووٹ دیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 2016 کے انتخابات میں ایسا ہی ہوا تھا،ہیلری کلنٹن نے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کیے تھے مگر الیکٹورل کالج کے ووٹ کم ملنے کی وجہ سے وہ صدر نہیں بن پائیں تھیں۔اتفاق سے صدارتی اُمیدوار کو یکساں الیکٹورل کالج ووٹ ملیں تو اس صورت میں ایوان نمائندگان کے رکن صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ، اسی طرح اگر نائب صدارتی اُمیدواروں کو بھی یکساں ووٹ ملتے ہیں تو کانگریس رکن نائب صدر کے لیے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ۔الیکٹورل ارکان عام افراد ہوتے ہیں جو اس ہی ریاست کے مقیم ہوتے ہیں جہاں سے انہیں منتخب کیا جاتا ہے، صدارتی انتخابات کے بعد از خود الیکٹورل کالج کے ارکان کی اہمیت ختم ہوجاتی اور وہ عام فرد بن جاتے ہیں، الیکٹورل کالج کے ارکان صرف ایک بار ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور اگلے انتخابات میں نئے ارکان کو منتخب کیا جاتا ہے، الیکٹورل کالج کے رکن کے لیے یہ شرط ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی قانون ساز ادارے کا رکن نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں