امریکہ کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن پاکستان کے بارے میں کس طرح کے خیالات و جذبات رکھتے ہیں ؟ اگر بائیڈن صدر بن گئے تو پاکستان کے حوالے سے انکی پالیسی کیا ہو گی ؟ ایک خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) صدر ٹرمپ کے برعکس جو بائیڈن عالمی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تین بار سینٹ کی طاقتور امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ سن ۲۰۰۸ میں جب وہ صدر باراک اوباما کے نائب صدر کے امیدوار قرار پائے تو اس میں ان کے اس تجربے کا بڑا

عمل دخل تھا۔صدر اوباما کی طرح جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ گمبھیر تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اوباما دور کا ایٹمی معاہدہ بحال کرنے کی کوشش کریں۔ریپبلکن پارٹی اور صدر ٹرمپ کی نظر میں ان کی یہ کمزور لیڈر کی نشانی ہے۔صدر ٹرمپ کی نسبت جو بائیڈن پاکستان کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں اور وہاں سول ملٹری عدم توازن کے مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔سن ۲۰۰۸ میں انہوں نے ریپبلکن قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا پیکج تیار کیا جس کا نام “بائیڈن لوگر بل” تھا۔ تاہم ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس بل کا نام وزیر خارجہ جان کیری کے نام سے منسوب ہوا اور سن ۲۰۰۹ میں صدر اوباما نے “کیری لوگر بل” کی منظوری دی۔جو بائیڈن سمیت امریکی قیادت کی خواہش تھی کہ اس امداد کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کے تسلسل، آزاد عدلیہ اور بدامنی پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف ایکشن کی ترغیب دی جائے۔ لیکن پاکستان میں عسکری قیادت کے شدید اعتراضات کے بعد یہ امدادی پیکج متنازعہ بن گیا۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بطور امریکی نائب صدر ان کے اسلام آباد کے ایک دورے میں ان سے بارہا پوچھا گیا کہ اگر امریکا پاکستان کا اتحادی ہے تو آئے دن قبائیلی علاقوں میں ڈرون اٹیکس کرکے اس کی خودمختاری کیوں پامال کرتا ہے؟اس موقع پر انہوں نے جو جواب دیا اس سے ان کی پاکستان کے بارے میں سمجھ بوجھ واضح ہوتی ہے۔انہوں نے کہا اپنے تیس سالہ تجربے کی بنیاد پر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا ملکی دفاع میں زبردست کردار رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری کوئی پامال کرتا ہے تو وہ یہاں بیٹھے ایکسٹریمسٹ ہیں جو آپ کے ملک کا نام خراب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “ہمارا مقصد آپ کی قیادت اور آپ کے وزیراعظم کے ساتھ مل کر آپ کی خودمختاری بحال کرنا ہے جسے یہ پامال کررہے ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں