عالمی سیاست میں بڑی ہلچل ۔۔۔ روسی صدر پیوٹن کے جنوری میں استعفیٰ دینے کی خبریں؟وجہ جان کرآپ بھی یقین نہیں کریں گے

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے 68 سالہ صدر ولادیمیر پیوٹن اگلے سال جنوری میں صدارتی عہدہ چھوڑ دیں گے۔برطانوی اخبار نے ماسکو میں موجود ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ روسی صدر پارکنسن کی بیماری کا شکار ہیں جس میں انسانی اعضاء کی حرکات و سکنات

آہستہ آہستہ بند ہونے لگتی ہیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پیوٹن کا بایاں ہاتھ ٹھیک سے کام نہیں کررہا اور کئی دفعہ ان کے سیدھے ہاتھ کو کم حرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیوٹن اگلے سال جنوری میں صدارت چھوڑ دیں گے، بیماری کی وجہ سے صدارت چھوڑنے کیلئے ان کی دو بیٹیاں اور ایک دوست ان پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔برطانوی اخبار کے مطابق رواں ہفتے یہ بات سامنےآئی تھی کہ ایسی غیر متوقع قانون سازی کی جارہی ہےجس کے ذریعے پیوٹن کو زندگی بھر سینیٹر بنانے کی راہ ہموار ہو۔دوسری جانب روسی صدارتی محل کریملن نے برطانوی اخبار کی رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر مکمل طور پر صحتمند ہیں۔خیال رہے کہ یہ خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب رواں سال جولائی میں روسی عوام نے پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی اصلاحات کی توثیق کی تھی جس کے بعد ولادیمیر پیوٹن کے 2036 تک روس کا صدر رہنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔روسی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص صرف دو بار ہی 6،6 سال کی مدت کیلئے صدارت کے عہدے پر رہ سکتا ہے تاہم چونکہ مذکورہ آئینی اصلاحات میں پیوٹن کے عہدہ صدارت پر رہنے کی مدت کو صفر کردیا گیا ہے لہٰذا وہ مزید 2 بار عہدہ صدارت پر براجمان ہونے کے اہل ہوگئے ہیں۔ولادیمیر پیوٹن کی دوسری صدارت کی مدت 2024 تک ہے۔ لہٰذا وہ مزید 2 بار عہدہ صدارت پر براجمان ہونے کے اہل ہوگئے ہیں۔ولادیمیر پیوٹن کی دوسری صدارت کی مدت 2024 تک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں