پاکستان نے برطانیہ سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،مگر کیوں؟جانیئے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان نے برطانیہ سے ملک بدر افراد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے تین ہفتے قبل ملک بدر کیے جانے والے کم و بیش تین درجن افراد کو لے کر اسلام آباد آنے والی چارٹر پرواز کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر

برائے امور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پرواز کی منسوخی کا نواز شریف کے کیس سےکوئی تعلق نہیں۔پروازوں کو پروٹوکول پر پوری طرح عمل کی صورت میں قبول کیا جائے گا۔برطانیہ یہ پرواز 20 اکتوبر کو پاکستان پہنچنا تھی۔پاکستان کی جانب سے پرواز قبول کرنے سے انکار کے بعد برطانیہ کے پاس ان لوگوں کو دوبارہ حراستی مرکز میں رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی اکتوبرکے پہلے ہفتے میں حکومت پاکستان کی جانب سے برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کے لیے اسلام آباد میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کے حوالے کیے جانے والے اس خط سے بھی پیدا ہوئی جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو پاکستان کے حوالے کرنا ان کا فرض ہے۔حکومت برطانیہ کے ایک ذرائع نے کہا کہ پاکستانی حکام نے ملک بدر کیے جانے والے پرواز منسوخ کر کے برطانوی حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر برطانوی حکومت نے نواز شریف کے مسئلے سمیت حکومت پاکستان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو تعاون ختم کردیا جائے گا۔اس حوالے سے شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پرواز کی منسوخی کا نواز شریف کے کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بدر کیے جانے والوں کو ڈاکومنٹیشن کی تصدیق اور پروٹوکول پر عمل کے بعد قبول کیا جائے گا۔قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے امور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی پاکستان کی درخواست پر جواب دیا ہے۔نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے انہیں بتایا ہے کہ لندن اسلام آباد کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریری طور پر لندن سے کچھ موصول نہیں ہوا لیکن وہ برطانیہ میں حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں