سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے پاکستان میں قائم سفارتخانے نے سفری پابندیوں کے باعث نہ جا سکنے والے ورکرز کے ویزوں کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کردیا ہے۔سعودی عرب سے شائع ہونے والے روزنامہ” موقر “کے مطابق پہلے مرحلے میں ان پاکستانی ورکرز کے پرانے ویزوں کی منسوخی اور نئے ویزوں کے اجرا

کا عمل شروع کیا ہے جو کورونا سے قبل جانے کے لیے تیار تھے لیکن سفری پابندیوں کے سبب روانہ نہیں ہو سکے تھے۔خبرکے مطابق سعودی عرب کے سفارتخانے کی جانب سے اس ضمن میں تمام ریکروٹنگ ایجنسیز اور اوورسیز پاکستانیز ایپملائمنٹ پروموٹرز کو جاری کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانے میں ورک ویزہ توسیع سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔سعودی سفارت خانے کے مطابق جو پاکستانی ورکرز اپنے پرانے ویزے کی منسوخی اور نیا ویزہ لگوانا چاہتے ہیں وہ کفیل کی جانب سے سعودی وزارت خارجہ اور سعودی چیمبر آف کامرس کا تصدیق شدہ خط اور نیا میڈیکل سرٹیفیکیٹ جمع کروائیں۔ ورکرز کے سابق ای نمبر ہی نئی میڈیکل رپورٹ آن لائن اپ لوڈ کریں۔کاغذات مکمل ہونے کے بعد پرانا ویزہ از خود منسوخ ہو جائے گا اور نیا ورک ویزہ لگا کر دے دیا جائے گا۔پاکستان بیورو آف امیگریشن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے پہلے مرحلے میں پاکستان میں چھٹی پر آئے ان ورکرز کے اقاموں میں توسیع کی جو پاکستان آئے ہوئے تھے لیکن سفری پابنیوں کے باعث واپس نہیں جا سکے تھے اور ان کے اقاموں کی مدت ختم ہو گئی تھی۔اخبار کے مطابق اسی طرح سعودی عرب میں موجود وہ لوگ جو واپس آنا چاہتے تھے لیکن فائنل ایگزٹ لگنے کے باوجود واپس نہیں آ سکے تھے ان کو مفت توسیع دی گئی۔سعودی حکام کے مطابق اب تیسرے مرحلے میں ان ورکرز کو نئے سرے سے ویزے دیے جا رہے ہیں جنھیں مارچ اپریل میں روانہ ہونا تھا لیکن نہیں جا سکے تھے۔اخبار کا کہنا ہے کہ بیورو آف امیگریشن کے مطابق اس سہولت سے کم و بیش 30 ہزار ورکرز مستفید ہوں گے۔مارچ میں جن افراد کے پروٹیکٹوریٹ لگ چکے تھے ان کی تعداد 30 ہزار سے زائد تھی لیکن اب کفیل پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ورکرز کو نیا لیٹر جاری کرتے ہیں یا نہیں؟اخبار کے مطابق بیورو کا کہنا ہے کہ اگر کفیل کو متعلقہ ورکر کی ضرورت نہ رہی ہو تو یہ تعداد کم بھی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں