بریکنگ نیوز: بڑی پابندیاں عائد ۔۔۔!!! فرانس نے ترکی کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا

پیرس (ویب ڈیسک) فرانس میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف ترک صدر کے بیان کے بعد دونوں ممالک میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جس کے بعد فرانس نے ترک شہریوں پر مشتمل مشہور تنظیم گرے وووز پر پابندی عائد کردی ۔ گرے وووز (Grey Wolves) یعنی سرمئی بھیڑیے نامی یہ تنظیم ترک شہریوں پر مشتمل تھی اور کئی دھائیوں

سے فرانس میں چل رہی تھی ۔فرانس کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فرانس خیالی تنظیموں کے خلاف اقدامات کررہا ہے ، ترکی کا کسی ایسی تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ فرانس نے گرے وووز پر پابندی عائد کیے جانے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنظیم پر فرانس میں شدت پسندی پھیلانے اور عصبیت کو فروغ دینے کے الزامات ہیں ۔فرانسیسی سفیر نے کہا ہے کہ اس تنظیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کابینہ اجلاس میں منظوری کے بعد ہوگا ۔دوسری جانب ترکی کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ فرانس میں ترکی کی کوئی تنظیم نہیں چل رہی ہے ۔ فرانس ایک خود ساختہ تنظیم کیخلاف کارروائی کے دعوے کررہا ہے جبکہ اگر اس تنظیم کی آڑ میں فرانس نے ترک باشندوں کیخلاف کوئی کارروائی کی تو اس پر چپ نہیں بیٹھیں گے ۔ واضح رہے کہفرانس جس تنظیم پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے اس کا نام گرے ووز ( Gray Wolves) ہے۔یہ تنظیم ان ترکوں نے بنائی ہے جو فرانس میں مقیم ہیں۔ وول بھیڑیے کو کہا جاتا ہے اور ترک ثقافت میں بھیڑیے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کے درمیان مختلف تنازعات کو لے کر کشیدگی چل رہی ہے۔ اس کشیدگی میں حالیہ اضافہ فرانس کی جانب سے مسلمانوں سے متعلق متنازع قانون سازی کی وجہ سے ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں