امت مسلمہ کے لئے خوشخبری: شاہ سلمان کا عمرہ زائرین کو شاندار سہولتیں فراہم کر نے کا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک) خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں عمرہ زائرین کو تمام تر سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں ملک کے اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ

نے زور دیا کہ بیرون ملک سے آنے والے زائرین کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔رپورٹ کے مطابق آن لائن اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی امور اور معاملات پر غور کیا گی.شاہ سلمان نے امیر کویت کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب کے بارے میں کابینہ کو بتایا۔ اس دوران ٹی 20 کے تحت منعقد ہونے والے کانفرنس کو بھی سراہا گیا۔ کابینہ نے امکان ظاہر کیا کہ ٹی 20 اجلاس سے جی 20 ممالک کرونا کے انسداد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق رائے کرتے ہوئے ہم آہنگ کوششیں جاری رکھیں گے۔ آن لائن کابینہ اجلاس میں اراکین نے بی 20 کانفرنس کا بھی جائزہ لیا جس میں جی 20 ممالک نے معیشت اور تجارت سمیت عالمی اقتصادی حالت میں بہتر کے متعدد پہلوؤں پر غور کیا ہے۔دوران اجلاس عمرہ زائرین اور کرونا صورت حال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اراکین نے اتفاق کیا کہ سعودی عرب آنے والے تمام زائرین کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق سعودی عرب نے غیرملکی ورکروں پر عائد میعادی ملازمت کی پابندیوں کو نرم کرنے اور ملک میں عشروں سے نافذ کفالہ نظام میں بہتری لانے کے لیے لیبر اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔نجی شعبے میں نیا اصلاح شدہ کفالہ نظام 14مارچ 2021 سے نافذ العمل ہوگا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے بتایا کہ نئے نظام کا مقصد مملکت کی لیبر مارکیٹ کو پرکشش بنانا ہے۔اس کے تحت غیرملکی ورکروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ملازمت کو تبدیل کرنے کا حق دیا جارہا ہے اور وہ اب اپنےکفیل کی اجازت کے بغیر بھی ملک چھوڑ کر جاسکیں گے۔عبداللہ بن نصر ابوالثونین نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ہم ایک پرکشش لیبر مارکیٹ بنانا چاہتے ہیں اور تین بنیادی خدمات کے ذریعے کام کے ماحول کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔نجی شعبے میں یہ خدمات تمام غیرملکی ورکروں کو دستیاب ہوں گی۔سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے ویژن 2030 کے تحت نجی شعبے کو ترقی دینا چاہتا ہے۔نائب وزیر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے کفالہ نظام کے تحت اعلی ہنرمند افرادی قوت کو راغب کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے ویژن 2030 کے اہداف اور مقاصد بھی حاصل ہوسکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں