فضل الرحمان نئی پریشانی کا شکار!حساس معلومات بھارت کے پاس کس طرح پہنچائی گئیں؟ کس نے PDMسے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنماؤں اور مسلم لیگ سے مشاورت شروع کردی ہے ، پی ڈی ایم کے لیے بڑی بات عمران خان کی حکومت گرانا نہیں ہے،

ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا اپنا اتحاد کس طرح برقرار رکھا جائے، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار سمیع ابراہیم نے کیا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل االرحمان نے اپنے قریبی ساتھیوں سے تذکرہ کیا ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر پیپلزپارٹی ان کے ساتھ نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سندھ کی حکومت ہے اس لیے استعفوں والا آپشن نہیں ہے.

اس کے ساتھ ساتھ ن لیگ کے اپنے ایم این ایز کی بڑی تعداد بھی استعفوں کی مخالف ہے،اس کی وجہ وہ کہتے ہیں کہ ان ہاؤس تبدیلی کی بات کی جائے، پیپلزپارٹی بھی اس کی حامی ہے۔

تجزیہ کار سمیع ابراہیم کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے پی ڈی ایم کو بتادیا گیا ہے کہ وہ اداروں کے ساتھ کھلی مخالفت پر مشتمل موجودہ بیانیے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ آگے چل کر یہ بھی نظر آرہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اپنے لوگ بھی ایاز صادق کی طرح مزید چیزیں بیان کریں گے.

اس کی بناء پر پی پی نے خود کو الگ کرلیا، ان کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت کورونا وباء کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے، اس وقت اگر وزیراعظم کو ہٹایا گیا اور ان کی جگہ نیا وزیراعظم منتخب نہ ہوسکا تو سپریم کورٹ مداخلت کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی جب کہ کورونا کی وجہ سے نئے الیکشن کروانا ممکن نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں