بریکنگ نیوز: پانسہ پلٹنے لگا ۔۔۔ صدارتی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی سوئنگ سٹیٹس کیا ہیں؟ پاکستانی انداز میں سمجھیں

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ میں 2 پارٹی سسٹم ہے، یعنی وہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں سب سے بڑی جماعتیں ہیں۔ ان کو آپ امریکہ کی تحریک انصاف اور مسلمم لیگ ن قرار دے سکتے ہیں۔امریکہ میں جب الیکشن آتے ہیں تو پہلے سے ہی پتا ہوتا ہے کہ کس پارٹی کو کس ریاست سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔

جس طرح پاکستان میں پتہ ہے کہ خیبر پختونخوا تحریک انصاف کا صوبہ ہے اور پیپلز پارٹی سندھ پر راج کرتی ہے تو اس لیے یہاں کسی تیسری پارٹی کیلئے محنت کرنا بے کار ہوگا۔قومی سطح پر 2018 کے الیکشن میں مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان تھا، اس لیے دونوں جماعتوں نے سب سے زیادہ زور پنجاب پر لگایا۔ یہاں زور اس لیے بھی زیادہ لگایا جاتا ہے کیونکہ یہاں سیٹیں زیادہ ہیں اور یہاں ہوا کا رخ بدلتا رہتا ہے۔ پچھلی 2 باریاں یہاں مسلم لیگ ن نے لی تھیں لیکن اب کی باری یہاں میدان تحریک انصاف نے مارا ہے۔ یعنی پاکستانی انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے سب سے زیادہ اہمیت پنجاب رکھتا ہے جس کی 2 وجوہات (سب سے زیادہ سیٹیں اور ہوا کا بدلتا رخ) پہلے ذکر کی جاچکی ہیں۔اسی طرح امریکہ میں بھی بعض ریاستوں کا پہلے سے ہی پتہ ہوتا ہے کہ کس ریاست سے کون سی جماعت کامیابی حاصل کرے گی۔ اس لیے ان ریاستوں میں امیدواروں کو زیادہ فکر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امریکہ کی کچھ ریاستیں سوئنگ سٹیٹس کہلاتی ہیں جن کی تعداد 12 ہے۔ ان 12 ریاستوں کو امریکہ کا پنجاب بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض ریاستوں کے الیکٹورل ووٹوں (اراکین پارلیمںٹ) کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہاں ہوا کا رخ بھی بدلتا رہتا ہے، اس لیے امیدواروں کی سب سے زیادہ توجہ انہی ریاستوں پر ہوتی ہے۔ اور یہی ریاستیں فیصلہ کرتی ہیں دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کی کرسی پر کون بیٹھے گا۔خیال رہے کہ ایریزونا (11 الیکٹورل ووٹ)، فلوریڈا (29)، جارجیا (16)، لووا (6)، مشی گن (16)، منی سوٹا (10)، نیواڈا (6)، نیو ہیمپشائر (4)، نارتھ کیرولائنا (15)، اوہائیو (18)، پنسلوانیا (20)، وسکونسن (10) امریکہ کی سوئنگ سٹیٹس ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں