دو امریکی مسلمان خواتین پھر کانگریس کی رکن بن گئیں،ان خواتین کا تعلق کہاں سے ہے؟حیران کن خبر

لاہور(ویب ڈیسک)دو امریکی مسلمان خواتین پھر کانگریس کی رکن بن گئیں، صدر ٹرمپ الہان عمر اور راشدہ طلیب کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی انتخابات میں دو مسلمان خواتین پھر منتخب ہوگئیں۔ راشدہ طلیب اور الہان عمر دوبارہ کانگریس کی رکن بن گئیں۔ الہان عمر صومالوی نژاد امریکی ہیں جبکہ راشدہ طلیب کے والدین کا تعلق فلسطین سے تھا، دونوں مسلم خواتین پہلے بھی کانگریس کی ممبر تھیں۔دریں اثنا واشنگٹن میں واقع وائٹ ہاوس کے سامنے ہنگامہ آرائی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاوس کے سامنے بلیک لائیوز میٹر سے متعلق ہنگامہ آرائی ہوئی، ہنگامہ کرنے والے ماسک پہنے افراد کو پولیس کی جانب سے پکڑنے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب وائٹ ہاوس کے سامنے مجمع میں مودجود نوجوانوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو پولیس سے بچانے کی بھی کوششیں جاری رہیں۔واضح رہے کہ امریکا کے منصبِ صدارت پر فائز ہونے کا معرکہ سر کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔یاد رہے کہ امریکہ میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور اب تک 50میں سے 31امریکی ریاستوں کے متوقع نتائج جاری کر دئیے گئے ہیں ، جو بائیڈن کی 14 ریاستوں میں جیت متوقع ہے۔ان ریاستوں میںورمونٹ، ڈیلاوئیر، میری لینڈ، میساچیوسٹس، نیو جرسی، نیو یارک، کنکٹیکٹ، کولوراڈو، نیو میکسیکو، نیو ہیمپشائر،الینوائے، کیلیفورنیا، اوریگن، واشنگٹن، اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کی کل 17 ریاستوں میں جیت متوقع جن میں انڈیانا، کنٹکی، اوکلاہوما، ٹینیسی، مغربی ورجینیا، آرکنساس، جنوبی ڈکوٹا، شمالی ڈکوٹا، الاباما، جنوبی کیرولینا، نیبراسکا، نیبراسکا تھرڈ ڈسٹرکٹ، یوٹاہ، میزوری، کنساس،وئیومنگ، مسی سسیپی دیگر ریاستیں کڑے مقابلے یعنی سوئنگ سٹیٹس شامل ہیں۔دریں اثناسماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹویٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات 2020 کے نتائج کے حوالے سے جیتنے والے امیدوار کا نام سرکاری طور پر اعلان کرنے کے سلسلے میں صرف سات میڈیا پلیٹ فارمز پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔اس فہرست میں چھ ٹی وی چینلزاورایک نیوزایجنسی شامل ہے ،ٹویٹر نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ اس بات کا مطالبہ کرے گا کہ یا تو ریاست میں انتخابی ذمےداران یا پھر ذرائع ابلاغ کے جن سرکاری قومی اداروں کو نتائج کے اعلان کی اجازت دی گئی ہے، وہ ٹویٹس پر نتائج جاری ہونے سے قبل جیتنے والے امیدوار کا اعلان کریں۔اگر ٹویٹر پر کسی رپورٹر یا صارف نے منتخب ذرائع میں سے کسی کا حوالہ دیے بغیر نتائج کے حوالے سے ٹویٹ کی تو اس ٹویٹ کو بلاک کر دیا جائے گا۔ تو ریاست میں انتخابی ذمےداران یا پھر ذرائع ابلاغ کے جن سرکاری قومی اداروں کو نتائج کے اعلان کی اجازت دی گئی ہے، وہ ٹویٹس پر نتائج جاری ہونے سے قبل جیتنے والے امیدوار کا اعلان کریں۔اگر ٹویٹر پر کسی رپورٹر یا صارف نے منتخب ذرائع میں سے کسی کا حوالہ دیے بغیر نتائج کے حوالے سے ٹویٹ کی تو اس ٹویٹ کو بلاک کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں