ہم فرانسیسی صدر کے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔۔۔!!متحدہ عرب امارات نے کھل کر فرانس کی حمایت کر دی

ابو ظہبی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے فرانسیسی صدر کے مسلمانوں کے حوالے سے بیانات کا دفاع کیا ہے۔جرمن اخبار ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انور قرقاش نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی کھل کر حمایت کی اور گستاخانہ خاکوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال

کا ذمہ دار ترک صدر کو قرار دے دیا۔ انہوں نے ان دعووں کو مسترد کردیا کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون مسلمانوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ ’ ہمیں یہ سننا ہوگا کہ اصل میں میکرون نے اپنی تقریر میں کیا کہا ہے، وہ مغرب میںمسلمانوں کو تنہا نہیں کرنا چاہتے اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہوگا کہ مسلمان خود کو اس معاشرے میں ضم کرلیں اور فرانس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے طریقے ڈھونڈے، جیسے کہ وہ بنیاد پرستی کے خلاف لڑ رہا ہے۔انور قرقاش نے دعویٰ کیا کہ اس سارے تنازعے کی بنیاد ترک صدر رجب طیب اردگان کی سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ’ جب بھی اردگان کوئی خلا یا کمزوری دیکھتے ہیں تو وہ اسے اپنی طاقت بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔‘مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد محمد زید نے صدر میکرون کے ساتھ فون پر بات کی اور ان کی حمایت کی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے فرانس میں ٹیک کو اسلام کی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق فرانس نے ترک قوم پرست تنظیم ’گرے وولز‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔فرانس کی جانب سے ترک تنظیم پر پابندی کا معاملہ فرانس کے شہر لیون میں مبینہ آرمینیائی نسل کشی کی یادگار پر چاکنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔گزشتہ دنوں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر لڑائی کے بعد فرانس میں ترک کمیونٹی اور آرمینیائی نسل کے افراد کے درمیان حالات اچھے نہیں تھے جس کے بعد چاکنگ کی گئی تھی۔نامعلوم افراد نے گزشتہ روز لیون شہر میں یادگار پر آر ٹی ای (رجب طیب اردوان) اور ترک تنظیم (گرے وولز) کے نام کی چاکنگ کی تھی جسے بعد ازاں فوری طور پر مٹا دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر فرانسیسی حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ترک تنظیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔