امریکی الیکشن میں جو بائیڈن کی کامیابی کے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ پاکستانیوں کو بڑا سرپرائز دے دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک )نئی دہلی میں تین سال تک پاکستان کے سفیر کی خدمات انجام دینے والے معروف سفارتکار عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کا زیادہ رجحان جو بائیڈن کی طرف ہے اور امریکی صدارتی انتخاب میں وہ ان کی کامیابی چاہتی ہے، کیونکہ توقع ہے کہ بائیڈن کے خیالات امریکی سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کی

سوچ کے قریب ہیں،خاص طور پر افغانستان کے معاملے پر۔بائیڈن کی کامیابی کا عملی طور پر یہ مطلب ہو گا کہ ہمارے خطے میں مسائل کا حقیقی ادراک کیا جائے گا جبکہ اس کے برعکس صدر ٹرمپ کے بارے میں یقین سے کچھ بھی کہہ پانا ممکن نہیں۔بی بی سی اردو کو دئیے گئے انٹر ویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دن بیت گئے جب امریکی صدارتی انتخابات میں اپنی پسند کے صدارتی امیدوار کے حق میں پاکستانی سرکار کھل کر اظہار کیا کرتی تھی۔ آج یہ وقت ہے کہ دونوں طرف کے لوگ بڑی حقیقت پسندی سے اپنے مفادات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان ہی کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔عبدالباسط کہتے ہیں کہ ہم طالبان کے ساتھ امریکی بات چیت میں سہولت کاری کر رہے ہیں اور اس کے بدلے ہمیں توقع ہے کہ وہ انڈیا پر زور دیں گے کہ ہمارے لیے بلوچستان اور افغانستان کے ساتھ دیگر سرحدی علاقوں میں مسائل پیدا نہ کرے۔ ہمیں توقع ہے کہ امریکہ ہمیں ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں بھی بچا لے گا۔ ہم یقینی طور پر اس معاملے میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں