پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی، قانون کی حکمرانی بارے بھی ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 128 ممالک میں سے 120 ویں نمبر پر آیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کی کرپشن کی غیر موجودگی کے انڈیکس میں چار درجے تنزلی ہوئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں مجموعی

طور پر گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان کی موجودہ سال میں ایک درجہ تنزلی واقع ہوئی ہے۔ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس کی تیاری کے لئے 128 ممالک کے مختلف ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس تجزیہ کے بعد ان ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے، ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا کے انڈیکس میں پچھلے سال کی طرح پاکستان کا سکور 0.39 رہا ہے لیکن اس کی مجموعی رینکنگ میں ایک درجہ تنزلی واقع ہوئی ہے۔پاکستان کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ زمبابوے جیسا ملک بھی ہم سے اس انڈیکس میں اوپر ہے، آمدنی کے اعتبار سے 30 ممالک میں پاکستان 25 ویں نمبر پر کھڑا ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان سے صرف افغانستان ہی پیچھے ہے۔اس انڈیکس کی تیاری کے لئے آٹھ چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان میں حکومتی پاورز پر دباؤ، کرپشن کی غیر موجودگی،بنیادی حقوق، اوپن گورنمنٹ، آرڈر اینڈ سکیورٹی، سول جسٹس، کریمنل جسٹس اور ریگولیٹری انفورسمنٹ شامل ہیں۔ پاکستان کی کرپشن کے انڈیکس میں 4 درجے تنزلی ہوئی ہے اور یہ 112 سے 116 ویں نمبر پر آگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں