قرآن پاک کی ایک ایسی آیت جسے پڑھتے وقت پاکستان کے جج صاحبان بھی روپڑتے ہیں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام عالمی آبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بین الاقوامی ماہرین سمیت پاکستان کی اہم شخصیات سمیت ججز اور وکلا کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال روبھی پڑے

جس کی ویڈیو معروف صحافی سمیع ابراہیم نے اپنے پروگراممیں چلائی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کانفرنس کے دوران قرآن کی آیت پڑھی جس پر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن کی اس آیت کا ترجمہ بھی پڑھا جو ایک نہایت ہی پیاری دعا تھی ’’اے اللہ رب العزت ! مجھے وہ فہم و فراست اور حکمت عطاکریں کہ جس کو بروئے کار لاتے ہوئے میں درست فیصلے کر سکوں اور مجھے نیک اور صالح مرد اور عورتوں کی ہمرکابی نصیب کریں اور جب میں دنیا سے چلا جائوں تو مجھے اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔‘‘ جسٹس عمر عطا بندیال کا اس موقع پر گلا رندھ گیا اور آپ نے اپنے جذبات اور آنسوئوں کو ضبط کئے رکھا ۔اس موقع پر آپ کے سٹیج پر ساتھ والی نشست پر سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ جمالی نے انہیں حوصلہ بھی دیا اور آنسوئوں پونچھنے کیلئے رومال بھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا آیت کے ترجمے کے بعد کہنا تھا کہ میں جب پاکستان سے متعلق سوچتا ہوں تو میرے جذبات اور احساسات اس آیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن کی اس آیت کا ترجمہ بھی پڑھا جو ایک نہایت ہی پیاری دعا تھی ’’اے اللہ رب العزت ! مجھے وہ فہم و فراست اور حکمت عطا کریں کہ جس کو بروئے کار لاتے ہوئے میں درست فیصلے کر سکوں اور مجھے نیک اور صالح مرد اور عورتوں کی ہمرکابی نصیب کریں اور جب میں دنیا سے چلا جائوں تو مجھے اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔‘‘ جسٹس عمر عطا بندیال کا اس موقع پر گلا رندھ گیا اور آپ نے اپنے جذبات اور آنسوئوں کو ضبط کئے رکھا ۔اس موقع پر آپ کے سٹیج پر ساتھ والی نشست پر سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ جمالی نے انہیں حوصلہ بھی دیا اور آنسوئوں پونچھنے کیلئے رومال بھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا آیت کے ترجمے کے بعد کہنا تھا کہ میں جب پاکستان سے متعلق سوچتا ہوں تو میرے جذبات اور احساسات اس آیت کے مطابق ہوتے ہیں۔