آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے والوں میں وزیراعظم عمران خان شامل تھے۔۔۔۔اختر مینگل نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک)نیشنل پارٹی مینگل کے مرکزی رہنماء اختر مینگل نے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم نے2009ء میں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے والوں کی حمایت کی، عمران خان نے لندن کیس میں ہیربیار مری کی بےگناہی کی ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی دی تھی کہ بلوچستان میں جو برا رویہ اپنایا جا رہا ہے، اگر ہیربیار

کی جگہ میں ہوتا تو یہ ہی کہتا۔انہوں نے 28 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پی ڈی ایم اتنی چھا جائے گی کہ ایک معزز وزیر صاحب پی ڈی ایم کے خلاف قرارداد لائے ہیں۔ محمود خان اچکزئی اس ایوان کا حصہ رہے ہیں ان کا نام لیکر توہین کی گئی۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ جو زبانیں اس ملک میں بولی جاتی ہیں ان کا بھی احترام ہونا چاہیے۔کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم جلسے میں آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے گئے۔ اچھا ہوا کسی بلوچ نے یہ نعرہ نہیں لگایا نہیں تواسے زندہ نہ چھوڑتے، یہ الزام شاہ احمد نورانی کے فرزند پر لگایا گیا کہ اویس نورانی نے یہ بات کی ہے۔ہمارے ساتھی اویس نورانی اپنے انٹرویو میں بھی کہا کہ ان کی زبان پھسل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد بلوچستان کی باتیں کون کررہا ہے۔ہربیارمری جو رکن اسمبلی رہے، نواب اکبربگٹی کے نواسے برہمداغ بگٹی جو صوبے کے گورنر، وزیراعلیٰ بھی رہے، ڈاکٹر اللہ نظر جو ڈاکٹر تھے۔ ایک بیان پیش کرنا چاہتا ہوں جمعہ جنوری 2009ء کی بیان ہے۔ یہ بیان پاکستان کے کسی ٹی وی چینل پر نہیں ہے۔ ہربیار مری پرجب لندن میں ٹیررزم اور بلوچستان کی آزادی کے حوالے کیس چل رہا تھا، ان کی گواہی موجودہ وزیراعظم عمران خان نے دی تھی۔کہ آج جو بلوچستان کی آزادی کی بات کرتے ہیں یہ بلوچستان میں ہونے والے برے حالات کا نتیجہ ہے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو یہ ہی کہتا۔ جب ملک کا وزیراعظم اس وقت یہ بات کرسکتا ہے؟ تو اویس نورانی کی بھی زبان پھسل گئی ہوگی، اگر ان کو سزا مل سکتی ہے تو تھوڑی بہت سزا وزیراعظم کو بھی ملنی چاہیے۔ اخترمینگل نے خطاب میں کہا کہ مراد سعید صاحب،آپ ایک قرارداد لائیں کہ جو بھی آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرے گا اس کو سزا دی جائے گی۔ جہاں کسی کو اظہار خیال کی اجازت نہ ہو وہ مارشل لاء میں ہوتا ہے۔ اسمبلیوں میں نہیں بولنے دیا جاتا، باہر نہیں بولنے دیا جاتا، آپ قرارداد لائے ہیں کہ جلسے جلوسوں میں بھی نہ بولنے دیا جائے۔ ایسی باتیں مارشل لاء میں ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں