60 روپے کی دوا اب 360 میں ملتی ہے، کہتے ہیں کینسر کی دوا مہنگی ہوئی بتائیں پیراسیٹامول کینسر کی دوا ہے؟ “پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن اسمبلی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپنی ہی حکومت پر پرس پڑے ۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور جیتا ہوں اور وزیراعظم عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ غریب پر ظلم ہو رہا ہو

اور نان الیکٹیڈ بندے عوام کی رائے کے بغیر کوئی چیز مہنگی کر رہے ہیں اور ہم خاموش ہو جائیں اور جو جیت کر یہاں ایوان میں آتے ہیں انہیں کم از کم عوام کی تکلیفوں کا پتہ ہو تا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری عزت ماب وفاقی وزیر بیٹھے ہیں بہت اچھے انسان ہیں ، میں یہ انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت میں تین دفعہ دوائی مہنگی ہوئی ہے ، 60روپے کی بلڈ پریشر کی دوائی آج 360روپے کی مل رہی ہے ،مجھے بتایا جائے کہ کینسر کی کونسی دوائی مہنگی کی گئی ہے کیا پیرا سیٹا مول کینسر کی دوائی ہے ، حکومتی رکن نور عالم خان اپنی حکومت پر برس پڑیں۔ قومی اسمبلی میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر توجہ دلاؤنوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم نے کہاکہ اس حکومت میں تین مرتبہ دوائیں مہنگی ہوئی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ عوام کیلئے چیزیں مہنگی ہوں اور ہم خاموش رہیں انہوں نے کہاکہ آپ نے قیمتیں بھی بڑھا دیں اور جعلی ادویات کی روک تھام کے لئے بھی کچھ نہیں کیا،ایک سال پہلے کہا تھا مہنگائی بڑھنے لگی ہے،ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کی مہنگائی ہونے والی ہے۔ اجلا س کے دور ان رکن اسمبلی ریاض فتیانہنے کہاکہ اگر کیمیکل کی امپورٹ ڈیوٹی کم کردی جاتی تو ادویات کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا،یہ کہا گیا تھا کہ پرانی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا مگر اس پر عمل نہ ہوا،اگر آپ ٹائیگر فورس ہی لگادیتے تو شاید قیمتیں کنٹرول میں آجاتیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انا کا مسئلہ نہیں ہے، قیمتوں کو کم کیا جائے، 22 کروڑ عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

جبکہ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ وزارت اور ڈریپ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ پورے ملک میں قیمتوں پر نظر رکھ سکیں،فارماسیوٹیکل کمپنیز کے ساتھ طے ہوا تھا کہ وہ کورونا کی صورتحال میں قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے،89 کے قریب ادویات ایسی ہیں جن کی قیمتیں کم ہیں جن میں گردے کے امراض اور سکن ڈرگز شامل ہیں۔ علی محمد خان نے کہاکہ ماضی میں حکومتوں نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے کا اختیار دیا گیا اس کا عوام کو کیا فائدہ ہوا؟علی محمد خان نے کہاکہ

ہم نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو نکیل ڈالی ہے،ہم نے نواز شریف کی پالیسی کو ختم کر کے اب حکومت کے کنٹرول میں دیا ہے،کمپنیاں حکومتی مرضی کے بغیر ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھا سکتی،ہم عمران خان کے وژن پر عملدرآمد کیلئے یہاں موجود ہیں۔ خواجہ شیراز نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں میں پانچ سو دس فی صد اضافہ ہوا ہے،یہ

ملبہ ماضی کی حکومت پر مت ڈالا جائے۔ انہوں نے کہاکہ قیمتوں میں کمی کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہاکہ حلقوں میں عوام سوال پوچھ رہے ہیں ہمیں جواب دینا پڑتے ہیں،عوام کے ادویات خریدنے کی سکت ختم ہو چکی ہے،ایوان بااختیار ہے تو کوئی فیصلہ تو کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں