بریکنگ نیوز: سچے اور جھوٹے کا پتہ چل گیا ، کن کن اسلامی ممالک نے فرانس کی بنی اشیاء کا بائیکاٹ کر دیا ؟ کچھ نام آپ کو حیران کر دیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) فرانس میں شائع ہونیوالے گستاخانہ خاکوں کیخلاف سینیٹ،قومی اسمبلی اور بلوچستان خیبر پختونخوا اسمبلی میں مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں گئیں جبکہ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں جمع کرا دی گئیں۔ دوسری طرف پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے

شدید احتجاج کیا جبکہ فرانسیسی صدر کے گستاخانہ بیان پربھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔دریں اثنا پاکستان ترکی اور عرب ممالک سمیت متعدد اسلامی ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ہے، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے اہم معاملے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ قرار دادیں منظور کر لی گئیں۔ قراداد منظور ہونے کیساتھ ہی قومی اسمبلی کا ایوان نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے گونج اٹھا۔منظور کی گئی قرار داد کے مطابق یہ ایوان فرانس میں ہوئے توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان فرانسیسی صدر میکرون کے توہین آمیز الفاظ کی بھی مذمت کرتا ہے، یہ ایوان قرآن اور صاحب قرآن کی توہین کی مذمت کرتا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا یہ ایوان فرانس میں حجاب کی توہین کی بھی مذمت کرتا ہے۔ ایوان قرار دیتا ہے کہ اسلام کے خلاف اس رجحان کو روکا جائے۔ ایوان او آئی سی ممالک سے فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے۔قرارداد کے مطابق ایوان او آئی سی اور نان او آئی سی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی توہین کو روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔اس سے قبل خواجہ آصف کا قرارداد پیش کرتے ہوئے کہنا تھا متحدہ اپوزیشن فرانس کے میگزین میں شائع خاکوں کی مذ مت کرتی ہے۔ فرانس کی طرف سے دو ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ فرانس سے اپنا سفیر واپس بلایا جائے۔ ہم نے اپوزیشن کی الگ سے قرارداد اس لئے پیش کی کیونکہ ہمیں حکومت پر اعتماد نہیں، اس کے جانے کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ہم سپیکر کا احترام کرتے ہیں لیکن وہ کھلے عام حکومت کی حمایت نہ کریں۔

حکومت تو سلیکٹرز کے بغیر قانون سازی بھی نہیں کرا سکی۔ اب زیادہ وقت نہیں بچا، اب قصہ لپیٹا جا رہا ہے۔ آپ نے مریم نواز کا دروازہ توڑا، آپ نے آئی جی کو زبردستی اٹھا کر لے گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ سب باتوں کے باوجود یہ فیٹف سے نہ نکل سکے۔ سپیکر صاحب کو پتا ہے فیٹیف قانون کس نے بنوائے؟ اس موقع پر حکومتی ارکان نے خواجہ آصف کو طعنہ دیا کہ کھانے پر تو آپ بھی گئے تھے۔ جواب میں خواجہ آصف نے کہا مگر جمہوریت کے چیپمئن تو آپ بنتے تھے۔بعد ازاں وزیر خارجہ کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کیخلا ف قرارداد پیش کی گئی، اپنے خطاب میں انکا کہنا تھا فرانس میں گستاخی قابل قبول نہیں، مسلم امہ کے جذبات مجروح ہوئے۔ اسلاموفوبیا کے ٹرینڈ پر ہمیں تشویش ہے۔ افسوس اس موقع پربھی اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔ کیا ایوان کی حرمت سیٹیاں بجا کر بحال ہوتی ہے یا پامال؟ گستاخانہ خاکے سیاست سے بالاتر ہیں۔ ہندوستان کی بولیاں کون بول رہا ہے؟ بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگاتے ہو، شرم آنی چاہیے۔ نریندر مودی کی روح خواجہ آصف میں منتقل ہو گئی ہے۔ بھارت کا بیانیہ ان کی گھٹی میں شامل ہو گیا ہے۔کراچی واقعہ سے متعلق ہوٹل کی فوٹیج نے ان کو اور ان کے حریفوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت اپوزیشن کی جلسیوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔اس سے قبل ایوان بالا میں فرانسیسی صدر کی جانب سے توہین آمیزتقریر، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور کشمیر پر ہندوستانی فوج کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں،اراکین نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر آو آئی سی کا اجلاس بلانے اور فرانس سے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔