وہ تین ’ خفیہ رعایتیں ‘ جو اختلافات کی وجہ بن گئیں! نواز شریف اچانک جنرل باجوہ کے خلاف کیوں ہوئے؟ آج کل لندن میں کونسی 2 ویڈیوز ہر کسی کو دکھائی جا رہی ہیں؟ ارشاد بھٹی کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے پانامہ کے معاملے پر نواز شریف کی بات ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی معاملات عدالتوں میں ہی حل کیے جائیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کی آرمی چیف سے

ہونے والی ملاقاتیں سامنے آنے کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔چونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس ملاقات سے متعلق بتایا گیا تھا تو ن لیگ کو ایک دھچکا لگا کہ لوگوں کے سامنے یہ تاثر جائے گا کہ نواز شریف اور مریم نواز ڈیل کی کوششیں کر رہے ہیں اور آرمی چیف سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔چونکہ خفیہ ملاقاتوں اور ڈیل کی خبریں تو پہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن یہ دعویٰ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کیا گیا تھا لہذا اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی۔اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہمیشہ نواز شریف سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں مگر پانامہ کے معاملے پر عدالتوں کا سامنا کریں۔محمد زبیر کو بھی یہی کہا گیا تھا کہ عدالتی معاملہ عدالتوں میں اور سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل کریں۔ارشاد بھٹی سے سوال کیا گیا کہ محمد زبیر کہتے ہیں کہ ہم آرمی چیف سے غیر جانبدار ہونے کا تقاضا کر رہے تھے،ان سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عمران خان کی حکومت کی سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لیں۔جس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ نواز شریف نے یہ بات اپنے دور حکومت میں راحیل شریف کو کہی تھی کہ وہ نیوٹرل ہو جائیں؟ فوج یہ تو نہیں کر سکتی کہ حکومت اسے کچھ کہے اور وہ انکار کر کے غیر جانبدار ہو جائے۔ارشاد بھٹی نے سیاسی معاملہ پر مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے :