بریکنگ نیوز: 7 ارب روپے کا ہیر پھیر : وزیراعظم عمران خان کے اہم ترین اتحادی کی شامت آگئی ، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف نیب کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق نیب حکام 7 ارب روپے کے الزامات پر وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کے خلاف تحقیقات کرے گا ۔ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال پر الزام ہے کہ انہوں نے 330 ایکڑ زمین گوادر میں

ملک کے بڑے تجارتی ( ہاشو گروپ ) کو الاٹ کی تھی جس کو عدالت عالیہ بلوچستان کے دو رکنی بنچ نے معطل کر کے مقدمہ کا باقاعدہ اعلی پیمانے پر سماعت کا فیصلہ کر رکھا ہے اورفریقین کو نوٹسز بھی جاری کئے جا چکے ہیں ۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور نذری احمد لنگاہ پر مشتمل دو رکنی تربت بنچ کوئٹہ نے زمین کی الاٹ منٹ معطل کی تھی اس مقدمہ کا مدعی چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی جبکہ فریقین حکومت بلوچستان ، ممبر بورڈ آف ریونیو ، ڈی سی گوادر ، DG جی ڈی اے ، ایسوسی ایٹ بلڈرز پرائیویٹ لمٹیڈ کراچی اور میجر جنرل ( ر) شمشاد احمد جنرل منیجر ہاشو گروپ آف کمپنیز کو بنایا گیا ہے ۔ مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق گوادر میں اربوں روپے کی 330 ایکڑ زمین ہاشو گروپ کو کوڑیوں کے بھائو الاٹ کی گئی تھی اور جس میں امکان ہے کہ 7 ارب روپے کی بدعنوانی کی گئی ہے اور یہ الزام براہ راست وزیر اعلی بلوچستان جام کمال پر عائد ہوتا ہے کیونکہ یہ زمین وزیر اعلی کے حکم پر 9 ستمبر 2020 ء کو عدالت نے فوری ایکشن لے کر الاٹ منٹ معطل کی ہے ۔ ذرائع کے بچابق بلوچستان کے ایک شہری نے نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کو بھی درخواست دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ جام کمال نے 7 ارب روپے کی ڈیل کے عوض یہ زمین الاٹ کی ہے اس لئے اس بڑی بدعنوانی کے سکینڈل کی اعلی پیمانے پر تحقیقات کی جائیں اس ڈیل کو حتمی نتیجہ تک پہنچانے میں زاہد نامی شخص نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔