نواز شریف کی حکومت ،حلوائی کی دکان ،ماسی کا ختم کی بہترین مثال : میاں صاحب نے رہائشی سکیموں والا منصوبہ کس سوچ کے تحت شروع کیا تھا ؟ کھاتے ہیں تو لگاتے ہیں کی رٹ لگانے والوں کو حیران کر دینے والے واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) میاں نوازشریف بمقابلہ محترمہ بینظیر صاحبہ میاں نوازشریف اور اس کے چند حمایتوں نے محترمہ کے بارے میں جو گھٹیا الزامات اور بے ہودہ کہانیاں اور تصویریں شائع کروائیں‘ بہت سے اچھے خیالات کے حامل اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے ان حرکات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا‘

مشہور شخصیت و سماجی رہنما صوفی محمد انور اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن مجبوری تھی کہ اس وقت میاں نوازشریف اقتدار کل تھا۔ کوئی چوں چراں نہیں کرتا تھا۔ بہرحال محترمہ بینظیر اقتدار میں آگئیں۔ ان کے ساتھیوں نے مخالفین سے حساب کتاب پورا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ میاں نوازشریف لوگوں کو اس طرح نوازتے‘ صرف دو مثالیں دوں گا۔ میاں نوازشریف وزیرخزانہ پنجاب بنے تو ان کے ساتھ P-S قمر الزمان یا صرف قمر نامی شخص لگایا گیا۔ وہ آ خر تک میاں نوازشریف کے ساتھ اقتدار میں یا اقتدار سے باہر تھا۔ اس کو میاں نوازشریف نے ڈائریکٹر (DG) ایل ڈی اے لگایا اور ان کا ایک پی اے جمشید صدیقی (قمر) تھا۔ اس کو (DG) ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے لگا دیا۔ اس وقت چودھری شجاعت حسین صاحب وزیرداخلہ تھے۔ میرا ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹر ایف آئی اے کے آفیسروں‘ ملازمین سے واسطہ پڑتا تھا۔ بہرحال قمر کو ایل ڈی اے کا ڈی جی اس لئے لگایا گیا کہ لاہور میں میاں نوازشریف نے نئی نئی رہائشی سکیمیں بنوائی تھیں اور ان رہائشی سکیموں میں لوگوں کو نوازنا تھا۔ وہ بھی پردہ داری سے۔ اور جمشید صدیقی کو ایف آئی اے میں لگایا گیا کہ وہ ان کو تمام باتوں سے باخبر رکھے گا‘ لیکن اس نے دوسری طرف توجہ شروع کر دی۔ میاں نوازشریف کی حکومت پر حلوائی کی دکان ماسی کا ختم والی مثال فٹ تھی۔ محترمہ بینظیر صاحبہ کی جان گئی ۔ آصف زرداری فرنٹ لائن پی پی پی کے سربراہ بن گئے۔

انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران جو کچھ میاں نوازشریف کے بارے میں کہا تھا وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ شہبازشریف نے آصف زداری کے بارے میں جو کچھ کہا وہ بھی ریکارڈ پر موجود۔ ہاں مولانا فضل الرحمن نے عورت کی حکومت محترمہ بینظیر کے خلاف جو کچھ بولا ریکارڈ پر ہے۔ ملک کے حالات بدلتے گئے۔ 2018ء کے الیکشنوں میں عوام نے عمران خان کو حکومت کرنے کا حق دیا۔ ان کو اکثریت ملی۔ سندھ میں پی پی پی‘ کے پی کے میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں مشترکہ پارٹیوں کی اکثریت قائداعظم مسلم لیگ کی تھی۔ عمران خان سے پہلے پی پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتیں تھیں۔ ان دونوں حکومتوں میں مولانا فضل الرحمن چیئرمین کشمیر کمیٹی اور پارٹی کی پسندیدہ وزارت ہائوسنگ تھی‘ ان کے پاس تھی۔ اب عمران خان کی حکومت ہے۔ نیب کا چیئرمین پی پی پی اور (ن) لیگ نے بنایا۔ یہ تمام مقدمات دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنوائے۔ عمران خان نے تمام عدالتوں کو آزادانہ طورپر کام کرنے کا موقع دیا۔ کسی نے سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ دھاوا نہیں بولا ۔ تمام کیس میرٹ پر عدالتیں دیکھ رہی ہیں۔ 70 سال سے جو اقتدار میں تھے‘ سرکاری مراعات لیتے تھے۔ وہ اب اقتدار سے باہر ہیں۔ اب یہ عمران خان کو سلیکٹڈ سلیکٹڈ کا طعنہ دے رہے ہیں اور عمران خان پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ملکی اداروں کے خلاف بول رہے ہیں ۔ سابقہ حکمرانوں کو 5 سال کا عرصہ گزارنا مشکل ہو چکا ہے۔ عمران خان کی حکومت سے پہلے کوئی بڑا آدمی سیاستدان بیورو کریٹ قید میں نہیں گیا تھا‘ نہیں گیا تھا۔ ملک میں مہنگائی ہے۔ ٹھیک ہو جائے گی۔ کسی شہر کے کسی بازار میں جائیں‘ اتنا رش ہوتا ہے کہ گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں کو کھڑی کرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ تمام اشیاء ہر روز فروخت ہوتی ہیں۔ معذرت پاکستانی لوگ‘ اکثریت دکاندار یا عوام ڈنڈے کو مانتے ہیں۔ یہ سب مصنوعی مہنگائی ہے۔ انتظامیہ کی کمزوری اور لاپروائی ہے کہ مہنگائی ہے۔ عمران خان کے ساتھ عوام کی اکثریت ہے۔ ملکی ادارے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انشاء اللہ بہت جلد پاکستان ترقی کی طرف چلے گا۔