سوچو کوئی تو حل سوچو۔۔۔۔۔!!! بظاہر تو مزاحمتی بیانات مگر اندر خانے اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کےلیے (ن) لیگ کیا کچھ کر رہی ہے ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور(ویب ڈیسک ) خبر آئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے یک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے شروع کیے گئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، اسی بنا پر مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں کے یہ بیان سامنے آرہے ہیں کہ یہ بہت

اچھے اور مقدم ادارے ہیں، سب پاکستان کا حصہ ہیں، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار صابر شاکر نے کیا۔تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایک ’میگنا کارٹا‘ کی ضرورت ہے، ان کی طرف سے اس طرح کی مغربی اصطلاحیں استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ مغربی طاقتیں مغلوب اور متوجہ ہوں کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے، اس کی آڑ میں ان کا کہنا یہ ہے کہ جو بھی احتساب کا عمل چل رہا ہے اس پر بات ہونی چاہیئے، یہ یکطرفہ احتساب ہے اس کو ختم ہونا چاہیئے۔صحافی صابر شاکر کے مطابق پہلے بھی جب محمد زبیر نے عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں تو ان میں جو شرائط رکھی گئیں ان میں سے ایک تو یہ تھی کہ مریم نواز کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، جس کے لیے آرمی چیف عدالتوں میں اپنا کردار ادا کریں، اور اپنا وزن شریف خاندان کے پلڑے میں ڈال دیں ،مریم نواز کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت دلوائی جائے، تاہم عسکری قیادت کی طرف سے اس کی حامی نہیں بھری گئی، جب کہ اس وقت آپ کورکمانڈر کانفرنس کی کارروائی کا جائزہ لیں تو اس میں بھی عسکری قیادت کی طرف سے یہی کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا، جب کہ ماضی کی ملاقاتوں کا نتیجہ بھی ’نو‘ کی صورت میں نکلا تھا جس کی وجہ سے حالات و واقعات خراب ہوگئے،جس کے بعد16اکتوبر ہوا،18اکتوبر ہوا اور اب 25اکتوبر کا انتظار ہے۔