فصلی بٹیروں کا اگلا پڑاؤ کہاں ہو گا ؟ عمران خان جب رخصت ہونگے تو تحریک انصاف کے لیڈران کی اکثریت کس پارٹی کا حصہ بن جائے گی ؟ دنگ کر ڈالنے والی سیاسی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) اقتدار کی غلام گردشوں کی سمت اور رفتار بڑی بے رحم ہے۔ اس سنگدل حقیقت کا احساس پاکستان تحریک انصاف کو اس دن ہو گا جب ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا۔ پارٹی کے بانی اور سربراہ عمران خان کو تب اندازہ ہو گا کہ

نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”تمہیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد“۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے برعکس تحریک انصاف نے سیاست میں ابھی اپنا گردشی سائیکل مکمل نہیں کیا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کا مشکل ترین وقت اس وقت ہوتا ہے جب انہیں اقتدار کے ساؤنڈ پروف ایوانوں سے باہر نکل کر ایک دفعہ پھر زمین پر پھینک دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف پر چونکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا لہٰذا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس وقت پارٹی کی شکل کیا سے کیا ہو جائے گی۔ حضرت سلطان باہوؒ نے کیا خوبصورت بات کی ہے کہ ۔۔۔مویاں دی سار جیوندے کیہہ جانن۔۔۔سوئیو جانے جو مردا ہو۔۔۔مرنے والوں کی خبر زندہ رہنے والے نہیں سمجھ سکتے اسے وہی جان سکتا ہے جوموت کے گھاٹ اترا ہو۔ تحریک انصاف آہستہ آہستہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور آنے والے وقت میں اسے اقتدار سے محرومی کا زخم جلد یا دیر سے لگنا ہے۔ اس کا نتیجہ دوسری پارٹیوں کی نسبت مختلف ہو گا بلکہ زیادہ شدید ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں موروثی قیادت کا دور دورہ ہے لہٰذا پارٹیوں کے اندر اندرونی کشمکش کا ماحول نہیں ہے۔ پارٹی تنظیم کو پتہ ہے کہ ان پارٹیوں میں قیادت سے اختلاف کر کے آپ پارٹی کا حصہ نہیں رہ سکتے مگر تحریک انصاف کا معاملہ مختلف ہے۔ موروثی قیادت کا پارٹی سیاست کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اقتدار سے محرومی یا کسی بھی بحران کے وقت پارٹی بنیادی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتی

اور اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس کی مثال ہیں تحریک انصاف جب اقتدار کے سنگھاسن سے نیچے اترے گی تو اس کی ہیئت بہت مختلف ہو گی اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کی کور کمانڈ ایسے سیاستدانوں پر مشتمل ہے جو تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی نہیں رکھتے بلکہ موقع پا کر پارٹی کی اقتدار کی باری کا مزہ لینے آئے ہوئے ہیں۔ ان موسمی پرندوں کا اگلا ٹھکانہ وہ پارٹی ہو گی جس کی اقتدار میں اگلی باری ہے لہٰذا اقتدار سے محرومی کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی پوزیشن کریش لیڈنگ والی ہو گی اور آپ کو پتہ ہے کہ کریش لینڈنگ کرنے والا طیارہ تباہی سے بچ بھی جائے تو دوبارہ اڑان کے قابل نہیں رہتا۔ایسی صورت حال میں پارٹی میں موجود سرمایہ کار طبقہ بھی بے رخی کا مظاہرہ کرے گا جب انہیں پتہ چلے گا کہ پارٹی کی کریڈٹ ریٹنگ نیچے آ گئی ہے تو وہ اس میں سرمایہ کاری سے پرہیز کریں گے۔ جہانگیر خان جیسے لوگ ناکام سرمایہ کاری کی مثال ہیں اس لیے رزاق داؤد یا اس کلاس کے لوگ پارٹی کے بارے میں تحفظات کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ بھی ایک فیکٹر ہے کہ تحریک انصاف کے بنانے کے ٹائم جو لوگ عمران خان کے ساتھ تھے اس وقت ان میں کوئی بھی ساتھ نہیں کھڑا وہ سارے افتادِ زمانہ کا شکار ہو کر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے مدعی ایس اکبر کا تعلق بھی تحریک انصاف سے ہے۔

فوزیہ قصوری جیسے لوگ جنہوں نے پارٹی کو کروڑوں روپے اکٹھے کر کے دیئے، اس وقت گمنام ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی کمزوری یہ ہے کہ یہ پیسے والے لوگوں کو پارٹی میں زیادہ اہمیت دیتا ہے اور سنی سنائی بات پر یکطرفہ فیصلے کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ incumbency یا اقتدار سے لطف اندوز ہونے کا فیکٹر عوام کو پارٹی سے دور کر دیتا ہے۔ تحریک انصاف کا ریکارڈ ہے کہ اپنی معاشی پالیسیوں ناقص حکمرانی اور قیمتوں پر کنٹرول میں ناکامی کی وجہ سے جتنی تیزی سے انہوں نے عوامی حمایت کو کھویا ہے، پنجاب میں اس کا سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف اور ان کی پارٹی کو ہو رہا ہے، اس وقت ن لیگ اس پوزیشن میں نظر آ رہی ہے کہ وہ نواز شریف کے بغیر بھی پنجاب سے اکثریت حاصل کر سکتی ہے، اس کے لیے نواز شریف کی تصویر ہی کافی ہے۔ اس افسوسناک پیش رفت میں نیب نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ قطعی طور پر جانبدار احتساب کی وجہ سے جو لوگ پہلے نواز شریف کو بدعنوان سمجھتے تھے، اب اس سارے عمل کو احتساب بیورو کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ عمران خان جب اقتدار سے نیچے اتریں گے تو اس وقت رہی سہی پارٹی میں جانشینی کا مسئلہ بڑی شدت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گا۔ وہ 70 سال سے تجاوز کر چکے ہیں اور اعلان کر چکے ہیں کہ بطور چیئرمین یہ ان کی آخری ٹرم ہے وہ دوبارہ امیدوار نہیں ہوں گے اب چونکہ پاکستان کے سیاسی کلچر کی طرح ان کی فیملی کا کوئی رکن سیاست میں پارٹی میں نہیں ہے تو خیال یہی ہے کہ تحریک انصاف کو تتر بتر کرنے کے لیے یہی کافی ہے کیونکہ

ان کے بعد پارٹی کے کسی لیڈر میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ پارٹی کو اکٹھا رکھ سکے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کے بعد تحریک انصاف میں سونیا گاندھی ماڈل متعارف کرانے کی کوشش کی جائے جس کی رو سے عمران خان کے بیٹے کو پارٹی چیف بنایا جائے تا کہ پارٹی یکجا رہے مگر ایسی صورت حال میں ان کا بیٹا اپنی برطانوی ماں اور گولڈ سمتھ وراثت کی وجہ سے وزیراعظم نہیں بن سکے گا اور نہ ہی اتنا مؤثر ہو گا۔ سونیا گاندھی کا تجربہ اتنا کامیاب نہیں تھا جب ان کے لیے راہول گاندھی کو جانشین بنانے کا وقت آیا تو بھارتی عوام نے انہیں قبول نہیں کیا لہٰذا یہ موازنہ کوئی بہت زیادہ مثبت نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے جس بڑے پیمانے پر غیر منتخب اور غیر ملکی شہریت کے حامل افراد کو عہدے بانٹے ہیں اور عوامی مفاد کو جس وسیع پیمانے پر نظر انداز کیا ہے، اقتدار سے محرومی کے بعد ایک لمبے عرصے تک یہ واپس نہیں آ سکیں گے۔ واپسی تو بعد کی بات ہے پارٹی کا وجود برقرار کھنا ہی بہت بڑا چیلنج ہو گا البتہ اتنا ضرور ہو گا کہ پارٹی صفحہئ ہستی سے مٹنے کے بجائے حالیہ دور کی جماعت اسلامی کی طرح ہو جائے گی جو ہر الیکشن میں حصہ لے گی مگر جیتے گی نہیں اور پارٹی لیڈر سراج الحق جیسا ہو گا جو کسی نظریے یا پالیسی کو آگے بڑھانے کے بجائے روز مرہ کے حالات حاضرہ پر اپنا ردعمل دیا کرے گا۔ تحریک انصاف کے عروج نے طبقاتی طور پر معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ اب اگر کوئی نئی سیاسی پارٹی ابھرنے کی کوشش کرے گی تو اسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرناپڑے گا کیونکہ عوام سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے بعد اب وہ کسی اور کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ تحریک انصاف نے ماہرین عمرانیات کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ لیڈر کا تعلق جس طبقے سے ہو گا وہ اسی طبقے کے مفادات کی نگہبانی کرے گا۔ ایک دولتمند اور خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والا لیڈر غریب طبقے کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت جب تک نچلی سطح سے نہیں اٹھے گی ملک میں حقیقی تبدیلی کا خواب کسی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔