مریم اور شہباز شریف کے خواب چکنا چور ۔۔۔ نواز شریف کی مسلم لیگ کا قصہ بھی ختم ، اب کونسی مسلم لیگ باقی بچے گی ؟ آصف زرداری کس موقع پر پی ڈی ایم کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کریں گے ؟ تہلکہ خیز خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے میاں نواز شریف نے جو باتیں کی ہیں اور جو انداز اپنایا ہے اس کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس اتحاد کی دیگر جماعتوں نے ان کی تائید نہیں کی بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی تو ان کے اس نظریے کو

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی سپورٹ نہیں کرے گی اگر انہیں موقع ملا تو وہ الگ ہونے میں بھی وقت نہیں لگائیں گے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف کے افواجِ پاکستان پر حملوں کے بعد ان کی اپنی جماعت میں بھی تقسیم واضح ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف کی جماعت کے اکثریتی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اپنے قائد کے اس بیانیے کی حمایت نہیں کرتے چونکہ ہمارا سیاسی کلچر ایسا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں پارٹی سربراہ کی تمام خامیوں اور غلطیوں کو جانتے ہوئے بھی اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری سیاسی جماعتوں میں بدترین آمریت قائم ہے اظہارِ رائے کو شدید برا سمجھا جاتا ہے اور ہم اپنے اراکین کو بھی غلاموں کی طرح ہی رکھتے ہیں کبھی اختلاف رائے رکھنے والوں کی حمایت نہیں کی نہ کبھی ایسی روایات کو فروغ دیا ہے بلکہ ہم سیاسی غلاموں جیسی تربیت کرتے ہیں ایسی قیادت کے خواہشمند ہوتے ہیں جو لکھے پڑھے بغیر بس انگوٹھا لگائے اور دستخط کر دے۔ اس ماحول میں کوئی منتخب نمائندہ بھی رائے کا اظہار کرنے سے چھپتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف کی جماعت میں اعلانیہ طور پر اداروں کے حوالے سے ان کی تنقید ہر کھلم کھلا گفتگو نہیں کی گئی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پوری مسلم لیگ ن ہاتھ باندھ کر میاں نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ لوگ انتظار کر رہے ہیں آخرکار انہیں اس بیانیے کی وجہ سے میاں نواز شریف سے علیحدگی اختیار کرنا ہی پڑے گی۔

ممکن ہے پاکستان ڈیمو کریٹک کے دو تین مزید جلسوں کے بعد لوگ نکلنا شروع ہو جائیں ممکن ہے یہ کام اس سے پہلے شروع ہو جائے لیکن یہ بات طے ہے دسمبر کے تیسرے ہفتے تک صورت حال بدل جائے گی۔ یہ تو نہیں کہتا کی ن میں سے ش نکلے گی یا م الگ جماعت بن جائے گی یا کوئی اور دھڑا سامنے آئے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ مسلم لیگ ضرور بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے ن لیگ کے کم از کم نوے فیصد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی یہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کا اداروں کے حوالے سے بیانیہ غلط ہے اور وہ چیف آف آرمی سٹاف اور ایک فوجی کو نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی فوج کی قدر کرتے ہیں، اپنے فوجیوں اور افسران سے محبت کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف کے اس بیانیے کو اسی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا ممکن ہے جماعت میں سے کچھ لوگ میاں نواز شریف کو سمجھانا شروع کر دیں کوشش ضرور کی جائے گی لیکن میاں نواز شریف کا سمجھنا ذرا مشکل ہے کیونکہ وہ جس راستے پر چل نکلے ہیں اس کے بعد ان کے لیے اس بیانیے کے ساتھ پاکستان میں سیاست کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ویسے تو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس ساری مشق سے انہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس لیے جس نے سیاست کرنی ہے اسے یہ جان لینا چاہیے کہ عدالتوں میں موجود مقدمات

کے بغیر اب آگے بڑھنا ممکن نہیں ہو گا دوسری طرف اداروں کو متنازع بنا کر ذاتی مفادات کے حصول کی حکمت عملی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہی بات میاں نواز شریف کو بری لگی ہے کہ نہ تو انہیں کرپشن مقدمات سے نجات مل رہی ہے نہ ان کی چوری کو تحفظ دیا جا رہا ہے نہ ان کے لیے مستقبل کا راستہ کھل رہا ہے۔ یہی غم انہیں کھائے جا رہا ہے۔ ہر صورت اقتدار کی ہوس نے انہیں الطاف حسین ثانی بننے ہر مجبور کر دیا ہے۔میاں نواز شریف کا بیانیہ اور انکی سیاست کسی صورت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ یہ بیانیہ پاکستان کے دفاع کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا ہے اس لیے انہیں کوئی محب وطن پاکستانی اس امپورٹڈ نظریے یا بیانیے کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا۔ افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں انہوں نے قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔ ملک کو بد امنی سے نجات دلائی ہے۔ برسوں کی کوششوں اور قربانیوں سے اپنے اندر چھپے ملک دشمنوں کا صفایا کیا ہے، ملک میں امن بحال ہوا ہے تو ایسے وقت میں میاں نواز شریف اپنے امپورٹڈ بیانیے کے ساتھ نفرتیں پھیلانا اور اداروں میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ان حالات میں ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جا سکتی ان کی اپنی جماعت بھی یقیناً زیادہ دیر تک ایسا رویہ برداشت نہیں کر سکے گی۔ ہم سب کو مل کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ مل کر تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔