پاکستان کی اندرونی لڑائی میں بھارت کس کی پشت پناہی کرتے پکڑا گیا ؟ ایک خبر نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی

لاہور(ویب ڈیسک)چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان میں “مبینہ اندرونی ل ڑائی ” سے متعلق شائع ہونے والی جعلی خبروں کی سختی سے تردید اور مذمت کرتے ہوئےکہاکہ اگر اس مذموم پروپیگنڈے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو پاکستان کو ان افراد یا گروہوں پر

پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلانے پر قانونی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔تفصیلات کے مطابق شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ بھارت کی ریاستی مشینری کی جانب سے غیر حقیقی اور تصورات پر مبنی خبریں پھیلانا غلط ہے،بھارتی میڈیا کراچی میں ‘تصوراتی’ بدامنی کی تشہیر کر کے خود اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی ذاتی مفادات اور خطے میں بدامنی پیدا کرنے کی غرض سے غلط اطلاعات کا استعمال کرتا رہا ہے،پاکستان اس منظم پروپیگنڈے کی سختی سے مذمت کرتا ہے جس کو ہندوستانی ریاست کی گہری حمایت حاصل ہے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے ریاستی اداروں کو بھارت کی جانب سے جعلی پروپیگنڈہ کا نشانہ بننے سے روکیں، مذید یہ کہ ان جھوٹ پر مبنی خبروں کا نوٹس بھی لیا جائے، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پاکستانی ریاستی اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے میں ملوث ہیں تاکہ پاکستان کے اندر افراتفری کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کے ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کےخلاف سوشل میڈیاکمپنیوں کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی جو سفید جھوٹ بول کر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس مذموم پروپیگنڈے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو پاکستان کو ان افراد یا گروہوں پر پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلانے پر قانونی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔