ایک چور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا, پولیس نے دورانِ تفتیش اسے کہا کہ اپنے گھر فون کرو اور کسی بڑے کو بلاؤ تو جواب میں چور نے کیا جگاڑ لگایا ؟ آصف عفان کے قلم سے حکومتی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم

لاہور (ویب ڈیسک) عجب ہے کہ نواز شریف صاحب کی طرف سے ابھی تک ایسا سیاسی بیان کیوں نہیں آیا کہ جس موٹروے پر گراں فروشی کا نوٹس عمران خان صاحب نے لیا ہے وہ موٹروے بھی میں نے بنوائی تھی۔ ممکن ہے جوش خطابت میں انہیں ابھی تک یہ خیال ہی نہ آیا ہو

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کہ وہ اس موٹروے کا کریڈٹ ایک بار پھر لے سکتے ہیں جس پر انصاف سرکار مہنگائی کا نوٹس لے رہی ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ نواز شریف کی توپوں کا رُخ فی الحال کسی اور طرف ہے‘ ورنہ ایسا نادر موقع وہ کہاں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں۔ اُن سے بجا طور پہ اُمید کی جاسکتی ہے آج نہیں تو کل وہ یہ کریڈٹ ضرور لیں گے۔ قارئین بھی کہتے ہوں گے کہ سیاسی گرما گرمی کو چھوڑ کر مہنگائی اور موٹروے کو کیوں گھسیٹے چلا جارہا ہوں۔ سیاسی سرکس تو ا س قوم کا مستقل مقدر بن چکا ہے۔ اس میں ہونے والے تماشے اور کرتب چہروں اور کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ نجانے کب سے جاری ہیں۔ اس پر بھی بات ضرور کریں گے لیکن پہلے وزیراعظم کے اس ایکشن پر تو بات مکمل کر لیں جو وہ مہنگائی پر لے چکے ہیں۔ ایک حالیہ کالم میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وزیراعظم کے اس ایکشن پر مہنگائی کا جن ری ایکشن ضرور کرے گا لیکن مہنگائی کے جن نے اس ایکشن پر ری ایکشن تو درکنار ثانوی توجہ بھی نہیں دی۔ گویا کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جہاں وزیراعظم سیکرٹریٹ کے اہم مراسلوں پر غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے پر درجنوں وفاقی وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کیے جاتے ہوں اور سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ 37 اعلیٰ سطحی اجلاس اور 13نوٹسز لینے کے باوجود مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہوں اور قیمتیں کم ہونے کے بجائے ازخود دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہوں‘ وہاں مہنگائی کے جن کو کیا ضرورت پڑی ہے

کہ وہ وزیراعظم کے ایکشن پر اپنا ری ایکشن ضائع کرتا۔ مہنگائی کے جن کا سارا کام جب حکومتی فیصلے اور مشینری خود کئے چلے جارہے ہوں تو ایسے میں جن کا یہی ردِعمل بنتا ہے۔ انصاف سرکار کی طرزِ حکمرانی اور ترجیحات کا رونا تو ایک طرف یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ خود ساختہ مہنگائی سے لے کر ذخیرہ اندوزی تک‘ ملاوٹ سے لے کرناپ تول میں ڈنڈی مارنے تک سبھی کام دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے کرنے والے ابھی تک لاک ڈاؤن کے گھاٹے پورے کرتے نظر آتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران چھتوں پہ چڑھ کراذان دینے والے ریڑھی بان سے لے کر آڑھتی تک‘ دکاندار سے لے کر کارخانے دار تک سبھی پرانی کسریں نکالنے کے لیے گراوٹ کے ریکارڈ توڑے چلے جا رہے ہیں۔ رہی بات سرکار کی تو اصل ملاوٹ حکمرانوں کے بیانات اور احکامات میں ہوتی ہے۔ اگر ان کے احکامات خالص ہوں تو کسی کی کیا مجال کہ وہ ملاوٹ یا گراں فروشی کا تصور بھی کرے۔ گویا جیسے عوام ویسے حکمران‘ تو پھر رونا کس بات کا؟ جس ملک میں روزمرہ کی اشیائے ضروریہ سے وابستہ کاروبار پر حکمرانوں یا ان کے سہولت کاروں کی اجارہ داری ہو وہاں خود ساختہ مہنگائی اور چور بازاری سے کون روک سکتا ہے۔ آٹے‘ چینی سے نکل کر یہ واردات انرجی سیکٹر سے ہوتے ہوئے نجانے کہاں کہاں جاپہنچی ہے۔ وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ اقتصادیات سے کہیں بڑھ کر اخلاقیات کا ہے۔ اخلاقی گراوٹ نے معاشیات سے لے کر سماجیات تک سبھی کو ”لیرولیر‘‘ کر ڈالا ہے۔ مال بنانے کی دوڑ میں ہر کوئی حرام ‘ حلال سے بے نیاز سرپٹ

دوڑے چلا جارہا ہے۔ لمبا مال بنانے اور سرمائے کو چار چاند لگانے والوں نے ایسا ایسا شارٹ کٹ ایجاد کیا کہ پورا سسٹم ہی شارٹ کر ڈالا ہے۔ ہوسِ زر کے ماروں نے ایسا اندھیر مچایا کہ سب کچھ صاف صاف نظر آرہا ہے۔ اقتدار اور اختیار کے زور پر کیسی کیسی انجینئرڈ واردات نہیں کی گئی۔ شارٹ کٹ میں بھی ایسا کٹ لگایا کہ ایل سی (لیٹر آف کریڈٹ) کھلوانے کے لیے بھی قرض لینے والے جیسے ہی ایوانِ اقدار میں داخل ہوئے تو کیسی ایل سی‘ کیسی کسٹم ڈیوٹی‘ کسٹم حکام کے گلے پہ انگوٹھا رکھ کر درآمد شدہ مال ”باؤنڈڈ ویئر ہاؤس‘‘ (Bounded Warehouse) میں منتقل کروایا جاتا۔ قابلِ ذکر اور تشویشناک بات یہ کہ باؤنڈڈ ویئرہاؤس بھی اپنی ہی فاؤنڈری میں بنوائے جاتے۔ جس کے بعد انتہائی دیدہ دلیری سے ویئرہاؤس سے درآمد شدہ مال چوری کیا جاتا اور کھلے عام استعمال کیا جاتا اور مال بنایا جاتا پھر اپنی سہولت آسانی اور من مرضی کے مطابق سرکاری ڈیوٹیاں اور بینکوں کی ادائیگیاں کی جاتیں۔ یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا۔ اسی طرح ملکی و غیر ملکی کرنسی نوٹوں کی لانچیں بھر بھر کر نقل و حمل سے لے کر بے نامی اکاؤنٹوں‘ جائیدادوں‘ اونے پونے درجنوں شوگر ملز کے مالک بننے کے لیے قلانچیں بھرنے والوں سے کون واقف نہیں۔ بھاری رقوم کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر اپنے قریبی حواریوں اور دوستوں کے نام پر قائم کی گئی کمپنیوں کے ذریعے بنایا گیا لمبا مال کون جھٹلا سکتا ہے۔ مفادِ عامہ اور تعمیر و ترقی کے لیے مختص سرکاری رقوم پر ہاتھ صاف کرنے والوں نے

کراچی اور اندرونِ سندھ کو کس حال پر پہنچا ڈالا ہے اس دردناک حقیقت سے کون واقف نہیں۔ شریفوں اور زرداریوں کی طرز ِحکمرانی کی قیمت اس ملک و قوم نے کب کہاں اور کیسے کیسے چکائی ہے اس دردناک حقیقت سے کون واقف نہیں۔ لوٹ مار کا حساب طلب کرنے پر کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ کوئی ایک دھیلے کی بھی بدعنوانی ثابت کر کے دکھائے جبکہ مفاہمت کے بادشاہ کا مفاہمتی مصالحہ بھی دن بدن بے اثر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ تعجب ہے ملکی خزانہ بھی صاف اور ان سبھی کے ہاتھ بھی صاف‘ ہوش اُڑا دینے والے کیسز سے ان کا انحراف اور بے حسی دیکھتے ہوئے ایک لطیفہ بے اختیار یاد آگیا ہے کہ ایک چور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پولیس نے دورانِ تفتیش اسے کہا کہ اپنے گھر فون کرو اور کسی بڑے کو بلاؤ۔چور بولا: میرے گھر کوئی بڑا نہیں‘ والدہ بیمار ہیں اور چل پھر نہیں سکتیں‘بہن بھائی ہے نہیں اور والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ تفتیشی افسر کو اُس کے اس بیان پر شک گزرا تو اُس نے چور کو کہا کہ تمہارے باپ کی قبر کہاں ہے مجھے وہاں لے چلو۔ چور تفتیشی افسر کو قبرستان لے آیا اور ایک بچے کی قبر پر آکر ٹھہر گیا اور بولا: یہ ہے میرے باپ کی قبر۔ تفتیشی افسر نے حیران ہوکر کہا کہ یہ تو کسی بچے کی قبر ہے‘ تم اپنے باپ کی قبر دکھاؤ۔چور نے جواباً کہا کہ میرے باپ کی قبر یہی ہے۔ دراصل وہ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اب کچھ احوال اس سیاسی سرکس کا بھی ہو جائے جو ملک بھر میں لگا ہوا ہے۔ میثاقِ جمہوریت میں بدترین ناکامی کے بعد یہ سبھی میثاقِ مصیبت کے تحت مفادات کے جھنڈے تلے ایک بار پھر اکٹھے ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ اس سرکس کے کچھ بازیگر ظاہری تو کچھ پوشیدہ ہیں‘ ان سے توقعات وابستہ کرنے والے اور تبدیلی میں تبدیلی کے خواہش مند یہ تسلی ضرور کر لیں کہ کہیں کوئی گدھا یا گیدڑ چیتے کی کھال پہن کر شائقین سے داد تو وصول نہیں کر رہا۔ تاہم چلتے چلتے ایک اور خاصے کی بات بتاتا چلوں کہ اپوزیشن کو دن بدن مستحکم کرنے اور محاذ آرائی کے قابل بنانے میں ناقابلِ تردید کردار انصاف سرکار کے مخصوص چیمپئنز کے ساتھ ساتھ اس طرزِ حکمرانی کا بھی ہے جس کی فصل آج نہیں تو کل ضرور کاٹنا پڑے گی۔ شہزاد اکبر صاحب کی بڑھتی ہوئی کثرت بیانی دیکھ کر سیف الرحمن بے اختیار یاد آجاتے ہیں۔ یہ انہیں آئیڈیل بنا چکے ہیں یا ان کے ریکارڈ توڑنے کی دھن سوار ہے؟ اعصاب پر سوار اپوزیشن سے کچھ وقت نکال کر پی ٹی وی میں تعیناتیوں کے حوالے سے عدالت کے حالیہ فیصلے کا مطالعہ کرنے سے ان کا فکری توازن بہتر ہو سکتا ہے۔