نواز شریف کے اثاثے ضبط کر کے واپس پاکستان بھیجا جائے ،اگر ایسا نہ ہوا تو ۔۔۔ عالمی ادارے نے انگلینڈ حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے بڑا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) برطانیہ میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ ڈینئل بروس نے حکومت برطانیہ کرپشن کرنے والوں کو کسی قسم کا استثنیٰ نہ دے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ ڈینئل بروس نے حکومت پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے

کہ کرپشن کرنے والے ملزمان کو برطانیہ میں استثنیٰ نہیں ملنا چاہئے ، انہیں وطن واپس بھیجنا چاہئیے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ کا کہنا تھا قانون کی بالادستی کیلئے برطانوی حکومت جمہوری ملک پاکستان سے تعاون کرے ۔ برطانیہ میں غیر قانونی اثاثے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور نہیں ہونے چاہئیے ۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ نے مزید کہا انصاف کی فراہمی کیلئے برطانیہ کو ملک میں موجود غیر قانونی اثاثے ضبط اور واپس کرنے چاہیے، ایسانہ کیا گیا تو برطانیہ کو دنیا بھر میں کرپشن کی جنت کے طورپرجانا جائے گا۔انہوں نے پاکستان حکومت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ برطانیہ کی شفافیت کے لیے خطرہ ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے۔ دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کے مشیر مرزا شہزاد اکبر نے برطانوی حکام کو خط لکھا ہے کہ جس میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط میں شہزاد اکبر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت پر لازم ہے کہ وہ سابق نواز شریف کو پاکستان بھیجنے میں اپنا کردار ادا کرے۔امید کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے میں پاکستان کی معاونت کرے گی۔نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے زیرو آور میں نواز شریف کو وطن واپس لانے پر بات چیت ہوئی اور مختلف پہلوں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے برطانوی حکومت کوخط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا، اپوزیشن کو احساس ہوچکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے اداروں کو متنازع بنا رہی ہیں، لیکن حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہیں۔ی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نےکہا کہ نواز شریف کی ایکسٹرڈیشن کیلئے 3مراحل میں کام ہو رہا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ ایکسٹرڈیشن کی درخواست کی گئی ہے۔