یہ عمر شیخ کیا چیز ہے اسکی ہر روز مسخرے پن والی خبر کیوں آتی ہے ؟ پشاور ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس کیوں دے دیئے ؟ جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

پشاور (ویب ڈیسک) ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہےکہ لاہور کے سی سی پی او جو کر رہے ہیں وہ کافی ہے روزانہ ان کی ایک مسخرہ پن والی خبر آتی ہے۔جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پولیس

کے بغیر سرچ وارنٹ گھر میں داخل ہونے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری میرے گھر میں بغیر سرچ وارنٹ کےداخل ہوئی اور گھر کے افراد کو یرغمال بنایا۔عدالتی استفسار پر ایس پی کینٹ پشاور نے کہا کہ ایک کیس کی تفتیش میں ملزم پکڑنے کے لیے گھر میں داخل ہوئے۔ جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ آپ بغیر وارنٹ کے کسی کے گھر میں کیسے داخل ہوسکتے ہیں، پولیس کا یہ طریقہ ناقابل برداشت ہے،کیس کی تفتیش کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کے گھر میں داخل ہو جائیں۔ایس پی کینٹ پشاور نے عدالت عالیہ کے استفسار پر بتایا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے، جس پر جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ لاہور کے سی سی پی او جو کر رہے ہیں وہ کافی ہے، روزانہ ان کی ایک مسخرہ پن والی خبر آتی ہے، یہاں ہم کسی کو ایسا نہیں کرنے دیں گے، آپ درخواست گزار کے ساتھ بیٹھ کر اس پر بات کریں، آپ ان سے معافی مانگے اس معاملے کو آپس میں حل کریں۔یادرہے کہ سی سی پی او کی جانب سے مبینہ بدکلامی پر خاتون نے عمر شیخ کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست دے دی۔ امین پورہ رائیونڈ کی رہائشی نائلہ بی بی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے سی سی پی او نے انہیں گالیاں اور دھمکیاں دی ہیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی مبینہ بدکلامی کے حوالے سے ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں سنا جا سکتا ہے کہ رائیونڈ کی رہائشی خاتون نے سلام کے بعد سی سی پی او کو بتایا کہ اس کے شوہر کےخلاف کیس کا کچھ نہیں بنا تو سی سی پی او عمر شیخ نے مبینہ طور پر اس سے بدکلامی شروع کر دی۔ خاتون اور سی سی پی او عمر شیخ کی گفتگو کا یہ دورانیہ تقریباً 20 سیکنڈ پر مشتمل ہے جس کے مطابق بدکلامی پر خاتون خاموش ہو گئی اور اس نے ڈر کر فون بند کر دیا۔ رائیونڈ کی رہائشی ان خاتون کی جانب سے سی سی پی او کو دی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ سب انسپکٹر حیدر علی نے اس کے شوہر سے مقدمہ درج نہ کرنے کا کہہ کر 18 لاکھ روپے رشوت لی تھی مگر پھر بھی مقدمہ بھی درج کر لیا۔ دوسری جانب اس معاملے کے حوالے سے سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ آڈیو گفتگو ان کے خلاف نیا افسانہ ہے۔