بریکنگ نیوز: سانحہ موٹر وے کے ملزم عابد ملہی کی شناخت پریڈ۔۔۔ متاثرہ خاتون نے دیکھ کر کیا کہا؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) موٹروے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون نے ملزم عابد ملہی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ نشانہ بننے والی خاتون نے ملزم کو شناخت کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ ملزم عابد ملہی کو شناخت پریڈ کیلئے 14 روز کیلئے جیل منتقل کیا گیا تھا۔ اینٹی ٹیرر کورٹ کی عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم عابد ملہی کا ریمانڈ دیا جبکہ دوسرے ملزم شفقت کو 15 روز جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا تھا۔ خیال رہے کہ ملزم عابد ملہی کو 12 اکتوبر کو مانگا منڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم کو پکڑنے میں اُس موبائل فون سے مدد ملی جو اس نے فیصل آباد میں اپنی اہلیہ کے بھائی کے گھر سے چوری کیا تھا۔ تاہم ملزم کے والد کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عابد ملہی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود گرفتاری کے لیے پیش ہوا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا تھا کہ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس کی گرفتاری کے لیے انعام کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ رشتہ داروں پر بھروسہ بھی نہیں کر رہا تھا اور سفر کرنے کے لیے بھی عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے سے گریز کر رہا تھا۔ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ اس نے کئی میل پیدل سفر بھی کیا جس کی وجہ سے اس کے پیر بھی زخمی ہوئے تھے۔ وہ کئی روز تک بھوکا بھی رہا اور اس نے بھیک مانگ کر بھی کھانا کھایا۔ تاہم پولیس کے مطابق اس کی گرفتاری کے لیے جو جال پھیلایا گیا تھا اس میں انتظار صرف ملزم کی طرف سے غلطی کرنے کا تھا۔ پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس نے یہ غلطی اس وقت کی جب اس نے فیصل آباد میں رات کو چوروں کی طرح اپنے سالے کے گھر میں گھس کر اس کا موبائل فون چوری کیا۔ پولیس کے مطابق موبائل فون استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہی ملزم اتنے روز بچا رہا لیکن جیسے ہی اس نے موبائل فون چوری کیا تو وہ فوراً ریڈار پر آ گیا۔ عابد ملہی نے اس موبائل فون کے ذریعے مانگا منڈی میں اپنے والد سے رابطہ کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے حالات انتہائی خراب تھے۔ اس کے پاس کھانے پینے کے پیسے بھی ختم ہو چکے تھے اور وہ گھر جانا چاہتا تھا۔ ملزم اگلے روز جب مانگا منڈی اپنے گھر پہنچا تو اس کے والد نے پولیس کی ہدایات کے مطابق سی آئی اے پولیس کو اطلاع دے دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کی لوکیشن سے آگاہ تھی۔ جس کے بعد اسے گرفتار کر کے سی آئی اے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا۔