اگر مریم نواز ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن ذاتی حیثیت میں عام شخص بن کر کہیں نوکری کے لیے جائیں تو انہیں کس طرح کی ملازمت مل سکے گی ؟ ایک جاندار تحریر پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) زمانہ گواہ ہے کہ عمران کو تو ویسے بھی بحران میں زیادہ اچھا کھیلنے کی عادت ہے۔ عمران خان میں فی زمانہ سیاست کاری کے حوالے سے ایک واضح خامی یہ بھی ہے کہ اسے صحافیوں کو مختلف طریقوں سے خوش کرنا نہیں آتا۔ وہ اینکروں کو خود سوال بنا کے نہیں بیچتا۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اشفاق احمد ورک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ لوٹ مار پہ سمجھوتہ نہیں کرتا۔ہم بھول چکے ہیں کہ عمران وہ پہلا سیاست دان ہے جس نے ہماری بہت سی سیاسی بدعتوں کا قلع قمع کیا۔کسے نہیں معلوم کہ ایک زمانے میں ’بھائی‘ اور ’مولانا‘ کے خلاف میڈیا پہ بولنا گناہِ کبیرہ کی ذیل میں آتا تھا۔ امریکا کے خلاف بیان کا تصور کر کے ہی ہمارے کتنے سیاست دانوں کا پی….. خطا ہو جاتا تھا۔ ہمارے حکمرانوں کو اتنی توفیق بھی نہیں تھی کہ ہمارے نبیِ مکرم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف کسی بڑے فورم پہ آواز ہی اٹھا سکیں۔ جس ملک میں پولیس کی بھرتیوں کا معیار یہ ہو کہ الیکشن کے دنوں میں اپنے حلقے کے ہر گھر میں بھرتی کا لیٹر تھما دو۔ سیاسی حلقوں میں دھونس دھاندلی کے ماہرین کو جعلی ڈگریوں کے ساتھ پی آئی اے، سٹیل مل اور ریلوے جیسے محکموں میں کھپا دو، تاکہ وہ تنخواہیں اور مراعات قومی خزانے سے بٹوریںاور حرام زدگیاں ان پارٹیوں کے لیے روا رکھیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں سے جو یونٹ دو روپے میں خریدا جا سکتا تھا، اسے بھاری کمشن کے عوض تیس روپے میں خریدا، جو معاہدہ اپنے دورِ حکومت تک ہونا چاہیے تھا، اسے بیس بیس سال تک آنے والی حکومتوں پہ مسلط کیا گیا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ جس میٹرو یا اورنج ٹرین کو یہ اپنا کارنامہ بنا کے پیش کرتے ہیں، وہ قومی خزانے کے جسم پہ پھوٹنے والا وہ ناسور ہے ، جس کا مہنگی سے مہنگی ادویات کے مسلسل استعمال کے علاوہ علاج ہی ممکن نہیں۔

اس سب پہ ڈھٹائی کا یہ عالم کہ ’’تبدیلی کیوں نہیں آ رہی!!‘‘ چلیں ایک لمحے کے لیے یہ بھی فرض کر لیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے تو اس کا متبادل کیا ہے؟ یہی گلے سڑے سیاست دان ؟ اقتدار کی کرسیوں کی ہوس میں مبتلا خزانے کے کیڑے؟ عوام کے منھ سے تھوکے ہوئے نوالے؟ قومی سیاست کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے ہوسِ اقتدار میں شدت سے مبتلا نابالغ بچونگڑے؟ بریانی کی پلیٹوں اور قیمے والے نانوں کے عوض قوم کا ضمیر خرید لینے والے سوداگر؟لوگوں کی محنت کی کمائی کو گندی ذہنیت کے ساتھ بیرونی بنکوں میں منتقل کر نے کیلئے ہر پل کوشاں سیاسی شاطر؟ جن کے پاس این آر او کی طلب اور مزید لُوٹ مار کے منصوبوں کے علاوہ دو حرفی ایجنڈا بھی نہیں ہے۔ کوئی مجھے پوری دیانتداری سے بتائے کہ اگر میاں صاحب کی لاڈو، زرداری صاحب کے سُرجن تارے اور مولانا کے گول گپے کو خاندانی سیاست کے غبارے سے نکال کر حقیقی جمہوریت کے اصول کے تحت مارکیٹ میں لایا جائے تو یہ اپنی ذاتی قابلیت کے بل بوتے پر زیادہ سے زیادہ کتنی بڑی نوکری حاصل کر سکتے ہیں؟ کس کو خبر نہیں کہ یہ جلسے جلوس قوم کے درد میں نہیں نیب کے خوف کا شاخسانہ ہیں۔ اگر یہ قوم کے درد میں اتنے ہی دیوانے ہو رہے ہیں تو قوم کا لُوٹا ہوا پیسہ خزانے میں جمع کروا کے انھیں سکھ کا سانس لینے دیں۔ قوم کے مفادات میں آغاز ہونے والے پراجیکٹس میں حکومت کی معاونت کریں۔سب سے بڑا احسان تو یہ ہے کہ اس بد قسمت قوم کی جان چھوڑیں!!! ہمیں تو اس بات پہ حیرت ہوئے جا رہی ہے کہ ایک محدود سے سٹیڈیم میں گیارہ سیاسی پارٹیوں کی راتوں کی نیند حرام کر دینے والی محنت سے ایک عام درجے کا تماشا لگانے کو یہ اپنا کریڈٹ سمجھ رہے ہیں۔ایک طرف وہ قوم کے درد کا منھ زبانی دعویٰ کرنے والے صاحب ہیں جو اپنے دل کے درد کا مداوا کرانے کے لیے غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ خود کو نیلسن منڈیلا کہلوانے کے شوقین کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ نیلسن منڈیلا بننے کے لیے قید کاٹی جاتی ہے، جیب نہیں۔