اب وہ بات نہیں رہی : لندن میں تحریک انصاف کے ساتھ حیران کن واردات ۔۔۔ اسلام آباد سے ملنے والی ہدایات پر لندن میں پی ٹی آئی کارکن نواز شریف کی رہائش گاہ پر احتجاج کرنے پہنچے تو انہیں کیا سرپرائز مل گیا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) حکومت کی ناقص کارکردگی اور مہنگائی کے حوالے سے ہمارے پاس عوام کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں، حکومت کے لیے ایک اور چیلنج لندن میں پیدا ہوا، پہلے پی ٹی آئی کے لوگ آسانی سے نواز شریف کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرے کر لیا کرتے بلکہ

نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ دھاوا بول دیا کرتے تھے، اس مرتبہ پاکستان سے ملنے والی ہدایات پر احتجاج کرنے گئے تو سامنے ن لیگ کے کارکنوں کو تیار پایا، یہ گیم بھی جم نہ سکی، ہفتہ کے دن وزیراعظم نے ٹائیگر فورس سے جو ”جذباتی“ خطاب کیا اس میں اپوزیشن کے کئی الزامات کی تصدیق کر گئے، بہرحال اس موقع پر ان کی کیفیت اس لیے بھی غیر تھی کہ انہیں گوجرانوالہ جلسے میں اپوزیشن کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کا بطور ترجمان بھی جواب دینا تھا، وہ کچھ زیادہ بولتے ہوئے کئی لوز بال کرا بیٹھے، اپوزیشن سے زیادہ عام لوگوں نے اس سے ”لطف“ اٹھایا، اتوار کو کراچی کا جلسہ توقع کے عین مطابق بہت بڑا اور شرکا پُرجوش تھے، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل، جو پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی رہ چکے ہیں، کھل کر گرجے۔ سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے امیر حیدر ہوتی نے واضح کیا کہ اس اپوزیشن اتحاد کے بارے میں مخالفین کا پراپیگنڈہ آنے والے دنوں میں خاک میں مل جائے گا، محمود اچکزئی نے 1973 کے آئین کے ہر قیمت پر تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے ججز بحالی تحریک کے دوران 12 مئی کے سانحہ کا بھی ذکر کیا، میزبان پیپلز پارٹی کی جانب سے جلسہ عام میں ویڈیو لنک کا بھی انتظام تھا، بعض لوگ امکان ظاہر کر رہے تھے کہ نواز شریف کا خطاب بھی ہو گا مگر ایسا نہیں ہوا، تجزیہ کاروں کا پہلے سے کہنا تھا

کہ ضروری نہیں کہ نواز شریف ہر جلسہ سے خطاب کریں، انہوں نے جو لائن دینا تھی دے ڈالی، آگے بھی جب ضرورت محسوس کی گئی تو ان کی تقریر کرا دی جائے گی، نواز شریف کے بیانیہ کو مریم نواز نے یہ کہہ آگے بڑھایا کہ ایک یا دو افراد ادارہ نہیں ہوتے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں اداروں اور کرداروں میں واضح لکیر کھینچ دی ہے، انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑوں کی لڑائی ہے، آپ کا تو کوئی ذکر بھی نہیں کر رہا، بلاول بھٹو نے تمام اداروں کو کھوکھلا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی ہم سب کو مل کر لڑنی ہے، قید کی وارننگز ہمیں فیصلہ کن لڑائی سے نہیں روک سکتیں، مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ اس حکومت کو لانے والوں سے ان کی غلطی تسلیم کرا کے رہیں گے، انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تاک تاک کر نشانے لگائے، پی ڈی ایم کے دوسرے جلسے کی کامیابی سے یقیناً متحدہ اپوزیشن اور انکے حامیوں کے حوصلے بلند ہونگے، حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات کی خبریں پھیلانے کا تسلسل جاری تو رہے گا مگر مؤثر ثابت نہیں ہو گا، سیاسی محاذ آرائی اس موڑ پر آ چکی ہے کہ جہاں دھونس یا لالچ سے پارلیمانی جماعتوں میں نقب لگانا بھی بے سود ثابت ہو گا، تحریک آگے بڑھ رہی ہے، کسی کریک ڈاؤن کی صورت میں کشیدگی حد سے بڑھ سکتی ہے جس کا نقصان بہر طور برسراقتدار ٹولے کو ہی ہو گا، 2014 سے باقاعد ہ طور پر شروع ہونے والی اس لڑائی کی بنیادی وجہ سی پیک ہے، یہ کہا جاتا ہے اس وقت بھی پی ٹی آئی کی حکومت کو مقامی کے ساتھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے،

پی ڈی ایم کے زیرک لیڈر جانتے ہیں کہ احتجاجی مہم میں مزید شدت آتے ہی عالمی اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو جائے گی، مقابلہ پھر مقامی قوتوں کے درمیان ہی رہ جائے گا، کراچی میں مریم نواز کا قافلہ ایک جلوس کی صورت میں ائر پورٹ سے مزار قائد پر لے جایا گیا، بڑی تعداد میں شرکا نے کیپٹن صفدر کے ساتھ ہم آواز ہو کر ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگائے، یاد رہے کہ پہلے فوجی آمر جنرل ایوب نے قائد اعظم کی عظیم ہمشیرہ کو بھی غدار قرار دیا تھا، نعروں کے اس واقعہ کو ایشو بنا کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں بظاہر قائم سیاسی حکومت غیر سیاسی عناصر کے سامنے کس حد تک بے بس ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے مخالفانہ نعرہ بازی کے لیے دنیا کے مقدس ترین مقامات کی حرمت کا خیال نہیں رکھا، اب مزار قائد پر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی برداشت نہیں کر پا رہے، بہر حال جس صوبے میں سپیکر کو گرفتار کر لیا جاتا ہو، وزیر اعلیٰ اور پارٹی سربراہ کو گرفتاری کی وارننگز مل رہی ہوں، وہاں کیپٹن صفدر کی گرفتاری حیرت انگیز نہیں، تاہم اس سے پیپلز پارٹی کو مزید واضح ہو جانا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں نرمی دکھانے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مسلم لیگ والوں کو بتایا کہ رینجرز فورس آئی جی کو صبح چار بجے انکی رہائش گاہ سے پکڑ کر سیکٹر کمانڈر کے دفتر لے گئی، جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے ہی سے موجود تھے، دونوں پر دباؤ ڈال کر کیپٹن صفدر کو ہوٹل سے گرفتار کرایا گیا، سو کھیل پوری رفتار سے شروع ہو گیا۔