عمران خان اس لیے بھی کرپشن نہیں کر رہا کیونکہ اسکی تمام ضروریات اسکے اندرونی وبیرونی دوست اسکے کہنے سے پہلے پوری کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ توفیق بٹ نے کچھ تفصیلات بتا کر پاکستانیوں کو حیران کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک)ایک بات طے ہے اپوزیشن کے جلسے حکمرانوں کی اُمیدوں کے برعکس اگر واقعی کامیاب ہو رہے ہیں اُس کے ذمے دار کوئی اور نہیں خود حکمران ہیں، ابھی بھی وقت ہے حکمران اپنا قبلہ درست کرلیں، عوام کے اصل مسائل کی طرف محض گلی باتی نہیں عملی طورپر توجہ دیں،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ درست ٹیم کا انتخاب کیا جائے، چاپلوسی کرنے والوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، بیرون ملک سے آئے ہوئے ”کرایے کے ٹٹوﺅں“ سے نجات حاصل کرلی جائے خصوصاً صحت تعلیم اور انصاف کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت پوری کی جائے، تو میں اب بھی پورے وثوق سے کہتا ہوں گیارہ سیاسی جماعتیں کیا، ایک سو گیارہ سیاسی جماعتیں بھی اکٹھی ہو جائیں حکومت کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں، ویسے بھی حکومت کا کسی اورکو کچھ بگاڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس کام کے لیے حکومت خود ہی کافی ہے، موجودہ حکمران خود کو خودبخود ہی ایک کریڈٹ بہت زوردے کر یہ دیتے ہیں اُنہوں نے لوٹ مار ختم کردی ہے، یہ بات اتنی درست نہیں ہے، وزیراعظم ذاتی طورپر لوٹ مار نہیں کررہے ، اُنہیں اِس کی ضرورت کبھی بھی نہیں رہی، اُن کی تمام ضرورتیں اُن کے کچھ اندرونی و بیرونی دوست ہرممکن حدتک پوری کردیتے ہیں، اُن میں زیادہ تر وہی دوست ہیں جو، اب اُن کے ساتھ جڑکر ماضی اور حال میں اُن کی پوری کی گئی ضرورتوں کے سارے حساب پورے کررہے ہیں جو میرے خیال میں اُن کا حق بھی بنتا ہے، وزیراعظم خان صاحب کو اپنے اِن دوستوں کی کرتوتوں بارے اگر معلوم نہیں، یہ ایک المیہ ہے، اور معلوم ہونے کے باوجود اپنی آنکھیں مکمل طورپر بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں یہ اُس سے بھی بڑا المیہ ہے، عام تاثر یہی ہے وہ اتنے بھی نکمے نہیں ہروقت اپنے ساتھ جُڑے ہوئے اپنے دوستوں اپنے وزیروں مشیروں کے اُن معاملات سے بے خبر ہوں

جو نہ صرف اُن کی حکومت بلکہ ملک کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ،…. وزیراعظم کو اپنے ایک مخلص دوست کی اِس بات پر یقین کرلینا چاہیے اُن کے اپوزیشن خصوصاً شریف خاندان کو ہروقت چور کے بیانیے کی اہمیت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے، اِس میں کوئی شک نہیں سابقہ حکمرانوں نے لُوٹ مار کی انتہا کردی تھی لیکن اب لوگ اِس اٹل حقیقت کو دوبارہ فراموش کرنے کے لیے ذہنی طورپر تیار ہو گئے ہیں تو اِس کا کریڈٹ کسی اور کونہیں خان صاحب کی مسلسل نااہلی کو جاتا ہے، …. ویسے کبھی کبھی اللہ جانے کیوں میں اِس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہوں وزیراعظم اور اپوزیشن آپس میں ملے ہوئے ہیں، کوئی نہ کوئی اُن دونوں کے درمیان آپس میں ایسا ” مُک مُکا“ خفیہ طورپر ضرور ہوا ہے جس کے تحت ایک طرف ہمارے محترم وزیراعظم اور اُن کے وزیر، مشیر، خصوصاً اُن کے درجنوں ترجمان مسلسل نااہلیوں، بداخلاقیوں بدتمیزیوں اور بددیانتیوں کے مظاہرے کرکرکے اپوزیشن کے غبارے میں خود ہی ہوا بھرتے جارہے ہیں، اور دوسری طرف اپوزیشن خصوصاً میاں محمدنوازشریف کا جو ”بیانیہ“ ہے بظاہر وہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہے مگر اِس کا فائدہ وزیراعظم کو ہی ہوگا، اِس ملک کی اصل قوتیں وزیراعظم کی مسلسل نااہلی کی وجہ سے اُن سے چھٹکارا حاصل کرنے کا اگر سوچ بھی رہی تھیں تو اپوزیشن خصوصاً نواز شریف کے تازہ بیانیے سے اُن کی اِس سوچ پر گہری زد پڑی ہے، وہ ایک بار پھر اِس یقین میں مبتلا ہو گئی ہیں

اُن کے پاس سوائے عمران خان کے اور کوئی آپشن نہیں ہے، …. اِس پس منظر میں اپوزیشن خصوصاً نواز شریف موجودہ حکومت خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں، اور وزیراعظم مسلسل نااہلیوں کا مظاہرہ کرکے اپوزیشن کو فائدہ پہنچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، حتیٰ کہ نواز شریف کے ”نامعقول بیانیے“ کو اب اہمیت بھی دی جانے لگی ہے، …. اس بیانیے کے مطابق محسوس یہی ہوتا ہے اپوزیشن شورشرابا کرتی رہی رہے گی حکومت اپنے اقتدار کی مدت پوری کرے گی، اور موجودہ حکومت تو اقتدار کی مدت پوری کروانے میں سب سے اہم کردار نواز شریف کا حالیہ بیانیہ اور کرے گا، کل تک نوازشریف یہ سوچ رہے تھے موجودہ حکومت کو گرانے میں وہ کوئی کردار ادا نہیں کریں گے، اُن کا خیال تھا یہ ”دیوار“ اپنے وزن سے گرے گی، دوسری طرف وزیراعظم عمران خان بھی اِس یقین میں مبتلا تھے اپوزیشن کا جو طرز عمل ہے، خصوصاً میاں محمد نواز شریف کا چند جرنیلوں کے حوالے سے جو رویہ ہے، اِس پس منظر میں اُن کی حکومت گرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، اب دونوں کی سوچ بدلی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اپوزیشن خصوصاً نواز شریف اب شاید یہ چاہتے ہیں حکومت قبل ازوقت ہی اپنے انجام سے دوچار ہو جائے، دوسری طرف اپوزیشن کے حالیہ جلسوں سے وزیراعظم بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں، گزشتہ روز اسلام آباد میں ٹائیگرز فورس کی ایک تقریب سے اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اپوزیشن خصوصاً شریف خاندان کے بارے میں جولب ولہجہ اختیار

کیا، جو شدید ردعمل دیا، جس غم وغصے کا اظہار کیا اُس سے کم ازکم مجھے تو یہی احساس ہورہا تھا وہ اپنی حکومت کے قبل ازوقت خاتمے کے یقین میں مبتلا ہو گئے ہیں، اس موقع پر اُنہوں نے جو گفتگو کی وہ ہرگز اُن کی شایان شان نہیں تھی، سچ پوچھیں اُنہیں سنتے ہوئے ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا یہ وزیراعظم پاکستان نہیں بول رہے کسی محلے کے تھڑے پر بیٹھا ہوا کوئی شخص اپنے مخالفین کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہے، میں کئی بار اپنے دوست وزیراعظم سے کہہ چکا ہوں، بلکہ اُن سے پوچھ چکا ہوں آپ کو ابھی تک کیوں یہ یقین نہیں آرہا آپ وزیراعظم بن چکے ہیں؟، اور اگر آپ کو یہ یقین آگیا ہے پھر اپنا ظرف اپنے منصب کے مطابق کرلیں، پر کیا کریں فطرت نہیں بدلتی، آپ نے فرمایا ”کوئی شخص مجھ سے یہ کہے (احد) پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے میں مان لُوں گا لیکن کوئی مجھ سے یہ کہے کسی انسان کی فطرت تبدیل ہوگئی میں نہیں مانوں گا“…. خان صاحب کی خدمت میں گزارش ہے اِس ملک کی اصل قوتوں کی سرپرستی پر وہ ضرور مان کریں، اپنے محسنوں کی قدر کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنہیں یہ بھی سوچنا چاہیے اقتدار کی مسند پر اُنہیں سوار کروانے کے لیے صرف اِس ملک کی اصل قوتوں نے ہی اُنہیں اپنے کندھے فراہم نہیں کئے، اِس ضمن میں ایک انتہائی اہم کردار عوام کا بھی ہے جس کے حالات گزشتہ دوبرسوں سے اتنے بدتر ہوچکے ہیں دووقت تو کیا ایک وقت کی روٹی کے اُنہیں لالے پڑے ہیں، انتظامی شعبے بدحالی کے بدترین مقام پر ہیں، چلیں مان لیتے ہیں اُوپر کی سطح پر کرپشن تھوڑی کم ہوگئی ہے، مگر نجلی سطح پر لوٹ مار اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ سابقہ چوروں حکمرانوں کی اُوپر کی لوٹ مار کو بھی مات دینے لگی ہے، پنجاب میں تقریباً اپنے جیسے نااہل شخص کو لاکر اُنہوں نے بیٹھا دیا ہے، اب پنجاب کی حالت بھی تقریباً وہی ہے جو مرکز کی ہے، نااہلی اور لوٹ مار دونوں مِل کر پنجاب کا بیڑا غرق کررہے ہیں جبکہ مرکز میں صرف نااہلی ، لوٹ مار کو مات دے دی ہے،…. اِس پس منظر میں اپوزیشن کے جلسوں میں عوام کی تعداد اگر روزبروز بڑھ رہی ہے، اور وزیراعظم اور اُن کی نااہل ٹیم اِسے صرف ”بریانی اور قیمے والے نانوں “ کا کرشمہ قرار دے رہے ہیں، اُن کا یہ عمل یا یہ سوچ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، وزیراعظم اور اُن کی ٹیم اپنی مسلسل نااہلیوں سے کچھ اداروں کو مسلسل یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ !!