بڑی بریکنگ نیوز: تمام دعوے غلط ثابت ، حفیظ سنٹر میں آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی

لاہور(ویب ڈیسک) شہر میں 460 بلندو بالا عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات اور فائر ہائیڈرنٹس نہ ہونے کا انکشاف، سرکاری ادارے 18 ماہ بعد بھی فائر سیفٹی ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کرسکے، شہر کی بلندو بالا عمارتوں میں کاروبار کرنے والے اور رہائشی لاکھوں افراد کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق آتشزدگی کےہولناک واقعات کےباوجودشہر کی بلندو بالا460 عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹس اورآگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کا انکشاف سرکاری رپورٹ میں کیاگیاہے۔قانون کےمطابق بلندوبالا عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات، ہنگامی اخراج کیلئے سیڑھی ، فائر ہائیڈرنٹ، فائر آلارم سسٹم، ڈرائی کیمیکل پاؤڈر، واٹر ٹائپ سی ٹو، فائر کیمیکل سمیت دیگر آلات ہونےچاہیں لیکن ان عمارتوں میں فائرسیفٹی کے آلات کی عدم موجودگی پائی گئی۔ریسکیواور سول ڈیفنس کی رپورٹ میں سرکاری عمارتوں کو مائنس کر دیا گیا لیکن ڈی سی آفس ،کمشنر آفس ،ٹاون ہال ،ریونیو و خزانہ بلڈنگ، کوآپریٹو بلڈنگ ،یونین کونسل سمیت پانچ تحصیلوں میں اربوں روپے کی جائیدادوں کا ریکارڈ ہونے کے باوجود آگ بجھانے والے الات نہ لگائے گئے۔ بلندو بالا سرکاری و پرائیویٹ عمارتوں کےلاکھوں مکینوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گیئں۔ریسکیو ون ون ٹو ٹو اور سول ڈیفنس کے مشترکہ سروے نے بلندو بالاعمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹس کی قلت کا پول تو کھول دیا، مگر سرکاری عمارتوں کو بھول گئے۔سابق کمشنر ڈاکٹر مجتبیٰ پراچہ نے آلات نہ لگانے والی عمارات کے مالکان کو پچاس ہزار روپے ٹوکن جرمانہ عائد کیا۔بلند وبالا عمارتوں میں فائرہائیڈرنٹس کو یقینی بنانے اور عدم دستیابی کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔کمشنر کے اس حکم کی سرکاری اداروں نے ہی عدولی کردی۔میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر محکموں نے کنٹرولڈ ایریاز میں فائر ہائیڈرنٹس کو یقینی بنانے کےلیے کردار ادا کرنا تھالیکن شاید مزید حادثات کا انتظار کیاجارہاہے ۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر محکموں نے کنٹرولڈ ایریاز میں فائر ہائیڈرنٹس کو یقینی بنانے کےلیے کردار ادا کرنا تھالیکن شاید مزید حادثات کا انتظار کیاجارہاہے ۔