پشاور کے رہائشی نے اپنے گھر کی فریج میں 700 بچھو کیوں رکھےہوئے ہیں ؟

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایک رہائشی پی ایچ ڈی سکالر صاحبزادہ جواد نے اپنے گھر کی فریج میں تقریباً 700 کے قریب بچھو رکھے ہوئے ہیں، صاحبزادہ جواد دنیا بھر کی طرح بچھوؤں اور ان کے زہر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی سکالر صاحبزادہ جواد کا اس حوالے سے خبر رساں ادارے کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا

کہ میں نے بچھوؤں کو فریج میں اس لیے رکھا ہے کیونکہ بچھوؤں کا ڈی این اے باہر رکھنے سے محفوظ نہیں رہتا، جو میری تحقیق کا بنیادی عنصر ہے۔ صاحبزادہ جواد کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ان تمام بچھوؤں کو اپنے خرچے پر ملک بھر سے اکٹھا کیا ہے اور اکٹھا کرنے کے بعد انہیں میں نےاپنےگھر کے فریج میں رکھا ہے تاکہ جب میں مستقبل میں ان کے مالیکیولر اینالیسسز کرونگا جس سے ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پاس ان کی کونسی نسل آ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کو فریج میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بچھوؤں کی کون کون سی اقسام پائی جاتی ہیں اور کون سی قسم کس علاقے میں موجود ہوتی ہے، بچھو بہت سی بیماریوں کے علاج میں مفید بھی ثابت ہوئے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ جواد کا کہنا تھا کہ بچھوؤں کو پکڑنا انتہائی مشکل کام ہے کیوں کہ یہ زیادہ تر رات کے وقت شکار کے لیے اپنی بلوں سے باہر نکلتے ہیں، لیکن ہم مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ان کے خلاف معلومات اکٹھی کرتے ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تلاش کر کے پکڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں بچھو پکڑنے کے لئے کسی بھی علاقے میں جاتا ہوں تو مجھے وہاں پر رہائش اور کھانے پینے کا بہت مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ ان کو پکڑنے کے لیے تین سے چار دن درکار ہوتے ہیں، جن علاقوں سے اب تک میں نے بچھو اکٹھے کیے ہیں ان میں چترال اور فاٹا ریجن سرفہرست ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ جواد کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ اور اٹلانٹکا کے ریجن کے علاوہ دنیا کے ہر کونے میں بچھوؤں ہمارے ساتھ موجود ہوتے ہیں کیونکہ یہ دو علاقے دنیا کے سب سے زیادہ سرد علاقے ہیں، جہاں پر بچھوؤں کے لئے رہنا ممکن نہیں اور نہ ہی وہ اتنے ٹھنڈے علاقوں میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ جواد کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں میرے گھر والوں نے مجھے بچھوؤں پر ریسرچ کرنے سے منع کیا تھا لیکن میں چاہتا تھا کہ میں کسی ایسی چیز پر ریسرچ کروں جس پر اب تک پاکستان میں کسی نے نہ کی ہو اسی لیے میں نے بچھوؤں کا انتخاب کیا، شروع میں میرے گھر والے بچھوؤں سے بہت خوفزدہ ہوتے تھے اور میں بھی کچھ ڈرتا تھا لیکن اب میں اور میرے گھر والے عادی ہو گئے ہیں