اپوزیشن کے فوج مخالف مظاہرے! عسکری قیادت نے اچانک کیا فیصلہ کر لیا؟ پاکستانیوں کے لیے یقین کرنا مشکل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی تقاریر کے بعد میری معلومات یہی ہیں کہ ابھی فوج ان کے مزید جلسوں کو دیکھنا چاہ رہی ہے کہ ان میں کیا گفتگو ہوتی ہے، اس کے بعد کوئی ایکشن لیا جائے گا ، وزیراعظم عمران خان تو دل ہی دل میں خوش ہو رہے ہوں گے کہ اپوزیشن

رہنماؤں سے فوجی قیادت کی جو ملاقاتیں ہو رہی تھیں وہ اب بند ہو گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی رستہ نہیں رہا کہ وہ پوری طرح وزیراعظم کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں ، کیوں کہ میری کئی اہم سیاسی لوگوں سے بات ہوئی اور وہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف نے ملٹری کمانڈ پر تنقید کر کے عمران خان کو فائدہ پہنچایا، اگر نوازشریف نے اپنا بیانیہ جاری رکھا تو ان کی پارٹی کے لوگ جلسوں میں جانے سے گریز کرنے لگیں گے ، کیوں کہ گوجرانوالہ میں نوازشریف کی تقریر پر ن لیگ کے لوگ گھبرا گئے تھے اور وہیں انہوں نے آپس میں بات کی تھی کہ اب پارٹی کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔معروف تجزیہ کار کے مطابق اب یا تو مسلم لیگ ن کے لوگ ٹاک شوز میں جانا بند کر دیں گے یا پھر وہ انڈرگراؤنڈ ہو جائیں گے ، اگر ایسا ہوا تو نوازشریف کو پیغام پہنچے گا کہ پارٹی میں بغاوت کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ، خواجہ آصف جیسے شخص نے ایک انٹرویو دیا جس میں وہ نوازشریف کا بیانیہ اپنانے کو تیار نہیں تھے ، وہ سوالات کے ادھر ادھر جواب دیتے رہے ، جب کہ گوجرانوالہ میں مریم نواز کی تقریر سے بھی لگا کہ وہ ذہنی طور پر ایسی تقریر کے لیے تیار نہیں تھیں، ان کا خطاب بھی بکھرا بکھرا تھا جیسے انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہو کہ کیا کہیں ، تاہم کراچی میں ان کی تقریر میں پھر سے وہی انداز تھا جو مریم نواز کا خاصہ ہے، اس میں یکسوئی بھی تھی اور جوش و جذبہ بھی تھا۔