قبر ایک ہے اور بندے دو ، فیصلہ آپ نے کرنا ہے خود قبر میں جانا ہے یا اسکو بھجوانا ہے ۔۔۔۔۔جنرل ضیاء مرحوم کو یہ مشورہ کس نے دیا تھا ؟ بھٹو کو دراصل کس نے پ ھانسی چڑھوایا ؟ نام آپ کو حیران کردے گا

لاہور (ویب ڈیسک) ذوالفقار بھٹو بے پنا ہ خوبیوں مالک سیاست دان تھے لیکن منتقم مزاجی نے نہ صرف ان کے اقتدار کا دورانیہ مختصر کر دیا بلکہ جنرل ضیاالحق نے خان عبدالولی خان کے اس مشورہ کہ ’’قبر ایک ہے اور فرد دو ‘‘ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ خود قبر میں جائیں گے

نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یا اس کو بھجوائیں جو آپ کو قبر تک پہنچا دیگا۔ جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو ’’تختہ دار ‘‘ پر توچڑھا دیا لیکن 10سال بعد وہ خود بھی عالمی سازشوں کا شکار ہو گئے اور 17اگست 1988ء کو طیارے کے حادثے میں جان سے چلے گئے۔ انہوں نے بھی 1973کے آئین کی بحالی کیلئے 8ویں ترمیم قبولیت کی شرط رکھی۔ انہیں بھی اپنے ’’آئین سے ماورا اقدامات کے آئینی تحفظ کیلئے اپوزیشن کے سامنے جھکنا پڑا ۔ ان کی حکومت کے خلاف خاتمے کیلئے موومنٹ آف ریسٹوریشن آف ڈیمو کریسی(ایم آر ڈی ) کا نے طویل جدوجہد کی۔ اس تحریک کی اصل قوت پیپلز پارٹی تھی لیکن اس اتحاد کے روح رواں نوابزادہ نصر اللہ خان تھے ۔ جنرل ضیاالحق کے سیاسی منظر سے ہٹ جانے کے بعد پیپلز پارٹی کی غیر معمولی مقبولیت کا راستہ روکنے کیلئے اس وقت کی ایسٹیبلشمنٹ نے پاکستان جمہوری اتحاد تشکیل دیا جس نے وفاق میں پیپلز پارٹی کو واحد اکثریتی جماعت تو نہیں بننے دیا لیکن پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہو گئی۔ یہیں سے میاں نواز شریف کے اصل سیاسی کیرئیر کا آغاز ہو تا ہے جہاں سے وزارت عظمیٰ کا منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اگرچہ انہیں ایسٹیبلشمنٹ کی تائید و حمایت حاصل رہی لیکن تینوں بار بھاری اکثریت سے جیت جانے کے باعث وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے انہیں کوئی روک نہ سکا۔ ہر بار ایسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے نتیجے میں ہی انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا ۔ نواز شریف کی حکومت گرانے کے لئے نوابزادہ نصر اللہ خان کی قیادت میں سیاسی اتحاد بنتے رہے پی ڈی اے بنا محترمہ بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ کئے محترمہ بے نظر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان اس حد تک فاصلے تھے کہ جب 12اکتوبر1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کے اقدام کی مذمت نہیں کی ۔ آج صورت حال کچھ اس طرح ہے 63سال بعد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے بننے والے سیاسی اتحاد کی قیادت مولانا فضل الرحمنٰ کے پاس ہے۔ انہیں میاں نواز شریف کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ میں تاریخی جلسہ کرکے اپنی ’’سیاسی دھاک‘‘ تو بٹھا دی ہے۔ فی الحال عمران خان کے طرز عمل سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن سے کوئی ڈائیلاگ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن اپوزیشن کے ایجی ٹیشن کے بعد ڈائیلاگ ہی ایک ایسا راستہ ہے جس سے سیاسی بحران کا خاتمہ ہو گا۔ مجھے توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی جنگ ختم کرنے کی خواہش رکھنے والے سیاست دانوں کی کوشش سے کوئی بات طے ہو جائیگی۔ورنہ ہماری سیاسی تحاریک ’’درد ناک ‘‘ انجام سے بھری پڑی ہے ۔