پاکستان کی سیاست میں اس وقت تک توازن قائم نہیں ہو سکتا جب تک ۔۔۔۔۔ 1978 میں خان عبدالولی خان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا حیران کن بات کہی تھی ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان آزادی کے بعد سے سیاسی ،داخلی وخارجی کشمکش سے دوچاررہاہے،یہاں آسمانِ سیاست پر ہمیشہ غیر یقینی کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں،وطن عزیز میں مختلف نظام ہائے مملکت آزمائے گئے لیکن کوئی تاحال کامیابی کی معراج پر نہیں پہنچ سکاہے،جمہوریت جو جہاں بھر میں کاروبار مملکت کے حوالے سے

نامور کالم نگار اجمل خٹک کثر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک آزمودہ ،پائیدار اور کامیاب بندوبست گردانا جاتاہے،اُس جمہوریت سے بھی یہاں ہنوز وہ ثمرات عوام تک منتقل نہیں ہوسکے دیگر ممالک جن سے ہم آغوش ہیں،وجہ واضح ،صاف اور عیاں ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ آمیز ش زدہ رہی ۔پاکستان میں جمہوریت کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں چلی ہیں لیکن مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے،بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ ان تحریکوں میں اگرچہ پنجاب شامل تھا لیکن اُسے وہ قیادت میسر نہ تھی جن کا ایقان خالص جمہوریت پر ہو۔یہاں کی بڑی جماعتوں سے وابستہ رہنما اکثر ایسے مواقع کو اقتدارتک رسائی ہی کا ذریعہ سمجھتے رہے اور قربانی خواہ کسی اور صوبے یا کسی اور صوبے سے متعلق کارکنوں و رہنمائوں نے ہی کیوں نہ دی ہو لیکن اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر فیض اہلِ پنجاب ہی پاتے رہے ہیں۔تاریخ میں پہلی مرتبہ شاید ہمارے سامنے ایک ایسی تحریک نے اُٹھان لی ہے،جس کی سیادت بھی پنجاب سے ہے اور پنجاب ہی اس تحریک کاقائد ہے۔چند روز قبل کیپٹن محمد صفدرنے جہاندیدہ ولی خان کے جون 1978میں بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو کے حوالے سےیہ برمحل یاد دلایا کہ ولی خان نے کہا تھا’’جب تک پنجاب Indigenous (مقامی) لیڈر پیدا نہیں کر لیتا، پاکستان کی سیاست میں توازن قائم نہیں ہو سکتا، پنجاب کی اپنی قیادت ہوگی تو نہ تو وہ کسی آمرکوپنجاب کی طاقت استعمال کرنے دیگی اورنہ ہی وہ کسی آمر کوایسی اجازت دیگی جس سے پنجاب کی جمہوری قیادت

کو کمزور کیا جاسکے، ظاہرہےجب جمہوریت مضبوط ہوگی تو اس سے چھوٹے صوبوں کےاُن حقوق کا تحفظ ممکن ہو گاجو شخصی آمریتوں میں پامال ہوتے رہے ہیں‘‘ ۔ اسی تناظر میں آج کا سوال یہ ہےکہ کیا میاں نوازشریف اور مریم نوازکی صورت میں پنجاب کو وہ قیادت نصیب ہوگئی ہے جس سے ملک سول بالادستی کی جانب گامزن ہوتے ہوئے اُن عوامی اُمنگوں کا ترجمان بن سکے جوقیام پاکستان تا امروز تشنہ لب ہیں!پاکستانی عوام کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ گورے انگریز سے تواُنہوں نےآزادی حاصل کرلی لیکن اُن کے تنخواہ دار کالے انگریزوں کے وہ تاحال غلام ہیں۔یہ سلسلہ بیوروکریسی سے شروع ہوتے ہوئے آمروں اورموقع پرست نام نہاد جمہوریت پسندوں تک پہنچتا ہے۔قیام پاکستان کے فوری بعد اقتدارکی غلام گردشوں میں ٹانگیں کھینچنے کا جو عمل شروع ہوا،اس دوران صرف8سال میں7وزرائے اعظم اقتدار میں آئے اور بے عزت کرکے نکالے گئے۔ اس شرمناک تماشے پر بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرویہ کہے بغیر نہ رہ سکےکہ اتنی جلدی تومیں دھوتی نہیں بدلتاجتنی جلدی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں۔وہ یہ کہنے میں اس لئے حق بجانب تھے کہ آزادی کے فوری بعد وہاں جمہوریت اُس کی روح کےمطابق نافذہوئی ،جس کی بدولت ایک ایسا مستحکم سیاسی نظام معرض وجود میں آیا کہ اب تک وہاں 17عام انتخابات ہوچکےہیں ،ایک میکنزم کے تحت مقررہ آئینی مدت مکمل ہونےکے بعد انتخابات ہوتےہیں ،بعض اوقات مقررہ مدت سے قبل بھی انتخابات ہوئےلیکن ان کیلئے راستہ آئینی ہی اختیارکیا گیا،کبھی ایسانہیں ہواکہ سیاسی کشمکش کو جواز بناتے ہوئے وہاں ایک دن کیلئے بھی مارشل لا لگایا گیا ہو یا سیاستدانوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے یا تو بیرون ملک سے شوکت عزیز کی طرح کوئی وزیر اعظم امپورٹ کیا گیا ہویا پھر معین قریشی کی طرح ایک ایسے غیرملکی کو وزیراعظم بنایاگیاہو جس کے پاس اپنے ملک کا شناختی کارڈ و پاسپورٹ تک نہ ہو۔ہمارے ہاں جہاں 33برس سے زائد مارشل لارہا،وہاں نگران حکمرانوں سمیت جمہوریت کے نام پر بھی جولوگ اقتدارکے سنگھاسن پر براجمان رہے،وہ بہ وجوہ حقیقی جمہوریت کی جانب ایک قدم بھی نہ بڑھا سکے۔پی ڈی ایم کےحالیہ تحریک کے تناظر میں اہم سوال یہ نہیں ہے کہ کیا اس تحریک کے نتیجے میں موجودہ حکومت جاتی ہے یا نہیں،بلکہ اہم و بنیادی سوال یہ ہےکہ تحریک کی کامیابی سے حقیقی جمہوری نظام وسول بالادستی کے کتنے امکانا ت ہیں؟دیکھا جائے تو پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت کا نعرہ سول بالادستی کے تصور پر استوارہے لیکن اس حوالے سے کوئی واضح چارٹریا میثاق موجودنہیں۔یہ اہم بات ہے کہ پی ڈی ایم باہمی طورپر ایک ایسے عمرانی معاہدے پر پہنچ جائے جس میں اہم نکتہ حقیقی جمہوری نظام کا قیام ہو۔یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ ان دنوں پی ڈی ایم کے رہنمابالخصوص میاں صاحب اورمریم بی بی عوامی مقبولیت کی معراج پرہیں،لیکن سوالیہ نشان یہ ہے کہ یہ تمام راہ نما اس مقبولیت کو حقیقی جمہوریت کی بحالی کیلئے بروئے کارلانے کا کس قدر جوہر رکھتے ہیں ؟