اوریا مقبول جان کی ایک ایمان تازہ کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) مدینہ اور مکّہ کاروباری اعتبار سے دو مختلف زاویوں سے مشہور تھے۔ مکّہ چونکہ ایک بے آب و گیاہ سرزمین تھی، اس لیئے وہاں کے لوگ تجارت میں مہارت رکھتے اور دنیا بھر کی منڈیوں میں اپنا مال بیچتے تھے، جبکہ مدینہ باغات سے گھرا ہوا ایک شہر تھا اور یہاں کے لوگ

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زراعت کے معاملے میں شہرت رکھتے تھے۔ مدینہ کی ساری تجارت یہودیوں کے ہاتھ میں تھی ۔ جب سید الابنیاء ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اُس وقت یہودیوں کی وہاں چارمارکیٹیں تھیں اور مدینے کے زراعت پیشہ انصار انہی مارکیٹوں سے استفادہ کرتے تھے۔ ہجرت کے آغاز میں ہی رسول اکرم ﷺ نے ’’مواخات‘‘ کے سنہری اصولوں کے تحت ان دونوں مہارتوں کاحسین امتزاج پیدا کیا۔ مدینہ کی زراعت سادگی اور دیانت داری سے عبارت تھی اور مکّہ کی تجارت میں ’’مضاربہ‘‘ کے دیانت دارانہ اصول کی وجہ سے کسی بھی قسم کے استحصال سے پاک تھی۔ مضاربہ کے تحت ہی رسول اکرم ﷺ مکّہ کے صاحبِ ثروت لوگوں کا مال لے کر تجارت کے لیئے شام اور دیگر علاقوں کا سفر اختیار کرتے تھے۔ اس تجارت میں سرمایہ دینے والا فرد صرف ایک بات کا یقین کرتا اور وہ تجارت کرنے والے کی ایمانداری اور اسکی کاروبارمیں لگن اور پھر اس یقین کی بنیاد پر اسے سرمایہ فراہم کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص کی بھی شہرت ان دونوں خصوصیات کی وجہ سے ہوتی ، اس پر کاروبار کے لیئے سب سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا۔ ایسی سرمایہ کاری کسی بھی قسم کے سود، پہلے سے طے شدہ منافع یا سٹہ اور جواء جیسی لعنتوں سے پاک تھی۔ رسول اکرم ﷺ اپنی انہی دونوں خاصیتوں کی وجہ سے پورے مکّے میں ’’الصادق ‘‘ اور ’’الامین‘‘ کہلاتے تھے۔ ایک دفعہ شام کے بازار کے لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے

کہ گندم اور جو کی وہ فصل جو راستے میں بارش میں بھیگ گئی تھی، رسول اکرم ﷺبازار میں سوکھی اور خشک گندم علیحدہ کر رہے تھے۔ اصول پسندی اور دیانت کا یہی عالم تھا کہ سیدہ خدیجہؓ نے اپنا مال رسول اکرمؐ کے سپرد کیا تاکہ آپ اس سے تجارت کریں۔ آپؐ کی تجارت کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے پاس مکّہ میں چمڑے کی مصنوعات کا ایک بہت بڑا گودام تھا۔ دیانت دارانہ اصولوں کی پاسداری کرنے والے مہاجرین اور فصل کو محنت سے کاشت کرنے والے انصار جب مدینہ میں اکٹھے ہوئے تو ’’مواخات‘‘ نے ان دونوں مہارتوں (Skills) کو اکٹھا کر دیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیںکہ،’’ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اور سعد بن ربیعؓ کو بھائی بنایا۔ سعد نے مجھے کہاکہ میں انصار میں سے سب سے امیر آدمی ہوں، میں تمہیں اپنی آدھی دولت دے دیتا ہوں اور تم میری دو بیویوں میں جس کو چاہے پسند کر لو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں۔ عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے کہا، مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ،تم مجھے یہاں کوئی مارکیٹ ہے تو اس کا راستہ دکھا دو۔ انہوں نے وہاں جانا شروع کیا اور ایک دن وہ صحابہ میں سب سے امیر شخص کی حیثیت اختیار کر گئے کہ انہیں اللہ کے خزانے کا لقب ملا‘‘ (مسند احمد )۔ مہاجرین و انصار، دونوں ’’زراعت و تجارت‘‘ کی مہارت سے مالا مال تھے،لیکن جزیرہ نمائے عرب میں یہودی معاشی طور پر بہت مضبوط تھے۔ وہ ترقی یافتہ خطوں مثلاً شام اور فلسطین سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔

وہ ایسے بے شمار فنون سے واقف تھے جن سے عرب مکمل طور پر ناآشنا تھے ۔ ان کے جزیرہ عرب سے باہر کی دنیا کے ساتھ کاروباری تعلقات بہت قدیم اور مستحکم تھے۔ اسی لیئے ان کے پاس یثرب اور شمالی حجاز کے علاقے میں غلے کی درآمد اوریہاں سے خشک کھجوروں کی برآمد پر مکمل اجارہ داری تھی۔ مرغیوں کا پالنا اور مچھلی کا شکار جیسے کاروبار بھی یہودیوں کے ہاتھ میں تھے۔ وہ جولاہوں کا کام بھی کرتے تھے اور کپڑا بنا کر بیچتے تھے۔ انہوں نے اپنی چاروں مارکیٹوں میں شراب کی دکانیں جا بجا کھول رکھی تھیں اور شام سے اعلیٰ سطح کی شراب منگوا کر فروخت کرتے تھے۔ بنو قینقاع تو سنار اور لوہار کا کام بھی کرتے تھے اور کشتیاں بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان تمام کاروباری صلاحیتوں اورمارکیٹ پر کنٹرول کے باوجود پورے عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا کاروبار سود پر سرمایہ فراہم کرنا تھا۔ وہ یہ قرض عرب کے ان مغرور سرداروں کو دیتے جن کی ظاہر نمود و نمائش، شیخی اور فخریہ لاف زنی، یہودیوں کے سودی قرضوں کی مرہونِ منت تھی۔ یہودی ان سرداروں کو بہت زیادہ شرح سود پر رقم قرض دیتے اور پھر اسے ’’مرکب (Compound) سود ‘‘ میں بدلتے رہتے، یوں کوئی عرب سردار زندگی بھر اس سود سے نجات حاصل نہ کر پاتا۔ یہودیوں کے اس سودی کاروبار نے عربوں کو معاشی طور پر کھوکھلا کر کے رکھ دیاتھا اور ان کے دلوں میں یہودیوں سے نفرت بہت گہری تھی۔ اس بدترین کاروباری ماحول سے نجات کے لیئے رسول اکرم ﷺ نے

چاروں یہودی مارکیٹوں کے مقابلے میں فوری طور پراپنے لیئے ایک علیحدہ بازار قائم کیا۔ یہ مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر کے بعد دوسرا کام تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لینا چاہیے کہ آپ ؐ نے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے فرمایا، ’’یہ تمہارا بازار ہے۔ اسے کوئی زمین خرید کر یا عمارتیں تعمیر کر کے تنگ نہیں کرے گا۔ اس بازار پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں ہو گا‘‘ (ابن ماجہ)۔ اس بازار میں وہی اصول رائج کیا گیا جو مسجد میں آنے کا تھا کہ جو پہلے آئے گا وہ اپنی جگہ منتخب کر لے گا۔ فرمایا، ’’جس طرح مسجد سب کے لیئے مشترک ہے اسی طرح بازار بھی سب کے لیئے مشترک ہے‘‘۔ اسلام میں ٹیکس کی اسی قدر ممانعت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ’’ صاحبِ مکس( ٹیکس وصول کرنے والا)جنت میں داخل نہیں ہو گا‘‘ (ابی داؤد، مسند احمد،الدرامی) ایک اور جگہ فرمایا، ’’ ٹیکس لینے والا حوضِ کوثر کے جام سے محروم رہے گا‘‘ (ابنِ ماجہ)۔ جن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، ان میں سے بھی ایک ٹیکس وصول کرنے والا ہے۔ فرمایا، ’’جب نصف رات کو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ پس ایک منادی دینے والا ندا دیتا ہے کہ کوئی مانگنے والا جس کی دعا قبول کی جائے، ہے کوئی سائل جس کو عطا کیا جائے، ہے کوئی پریشان حال، پس اس کے لیئے کشادگی کی جائے، پس نہیں کوئی باقی رہتا، مسلمان جو دعا مانگے اور جس کی دعا اللہ قبول نہ کرے مگر وہ زانیہ جو اپنی طرف بلائے یا

عشار (ٹیکس وصول کرنے والا) ‘‘ (الترغیب الترھیب)۔ ٹیکس فری مارکیٹ آج کے جدید دور کی معاشیات کا سب سے سنہرا اصول سمجھا جاتا ہے جسے ’’Ease of doing bussiness‘‘ کے چند بنیادی تصورات میں شمار کیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں کاروبار اور صنعتوں کے فروغ کے لیئے ’’ٹیکس فری زون‘‘بنائے جاتے ہیں۔ اس تصور کی وجہ یہ ہے کہ تاجر کو مکمل طور پر کاروبار میں آسانی دی جائے تاکہ’’ اشیائے صرف‘‘عوام کو سستی میسر ہوسکیں۔ اس اصول کے علاوہ رسول اکرم ﷺ نے کسانوں، کاریگروں اور مصنوعات تیار کرنے والے کوبھی تحفظ دیا۔ آپؐ نے منع فرمایا کہ اس بازار تک پہنچنے سے پہلے کوئی ان کا مال نہ خرید ے۔ حدیث میں ہے ، ’’ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے اور (شہر سے پہلے ہی)ان سے غلہ خرید لیا کرتے تھے۔لیکن نبی اکرمؐ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ پر بیچیں گے جب تک اناج کو بازار میں نہ لائیں‘‘ (صحیح بخاری)۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور جو مال باہر سے آرہا ہو، اسے آگے جا کر نہ ملے، جب تک وہ بازار میں نہ آئے (بخاری)۔ یوں مدینہ کے اس بازار نے ’’مڈل مین‘‘ اور دلال کی جڑکاٹ کر رکھ دی اور ذخیرہ اندوزی کا بھی راستہ روک لیا۔ یہی وجہ تھی کہ کاشتکار اور دستکار کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملنے لگا اوراس کو ان لوگوں سے نجات مل گئی جو بغیر محنت کے صرف سرمائے کے بل بوتے پر مال خرید کر ان کا استحصال کرتے تھے ۔رسول اکرم ﷺ کو مسلمانوں کے اس بازار کے قیام کی اتنی جلدی تھی کہ آپؐ نے اسے ایک خیمے میں قائم کیا، مگر یہ بازار اس قدر کامیاب ہوا کہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف نے ایک رات اس کی طنابیں کاٹ دیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں