کیا یہی ہے تبدیلی : عمران سرکار کی ناک کے نیچے وزارت قانون نے وکلاء برادری پر کس طرح خلاف قانون نوٹوں کی بارش کی ؟ آڈٹ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک) وفاقی وزارت قانون کی جانب سے خلاف قانون بغیر اشتہار وکلا کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ، بغیر اشتہار وکلا کی خدمات حاصل کرنا پیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ آڈٹ حکام نے وزارت قانون و انصاف کا من پسند وکلا کو نوازنے سے لیکر بار ایسوسی ایشنز

کی فنڈنگ اور بھرتیوں کے اشتہارات تک کا کچہ چٹھہ کھول دیا۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بغیر اشتہار دیے 487وکلا کی خدمات حاصل کی گئیں اور 58لاکھ سے زائد فیس ادا کی گئیوزارت قانون و انصاف نے وکلا کی خدمات سال 2018-19کے دوران حاصل کیں جبکہ بھرتیوں کیلئے 6لاکھ سے زائد مالیت کے دو اشتہار جاری کیے لیکن بھرتیوں کا عمل دونوں مرتبہ شروع نہ ہوسکا۔ آڈٹ حکام نے مجاز افسران سے اشتہار کی مد میں خرچ رقم وصول کرنے کی سفارش کرتے ہوئے وزارت قانون کی جانب سے 31بار ایسوسی ایشنز کو جاری فنڈز پر بھی اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کو 2 کروڑ 96لاکھ سے زائد رقم دی گئی لیکن ان سے فنڈز کا آڈٹ حساب نہیں لیا گیا۔ ایک اور خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کنونشن سینٹر سے خطاب کے دوران نوازشریف اور شہبازشریف کی تصاویر بڑی سکرین پر دکھاتے ہوئے اپوزیشن کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اب اس معاملے پر سینئر صحافی احمد نورانی میدان میں آ گئے ہیں اور انہیں یہ اقدام نہایت افسوسناک محسوس ہواہے ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی احمد نورانی کا کہناتھا کہ ”عمران خان نے آج کی تقریرمیں خواتین کاتمسخراڑایا، نوازشریف کی اس تصویر پرطنز کیاجس میں وہ بیگم کلثوم نواز کے قرب المرگ ہونے پر رنجیدہ کھڑے ہیں،خواجہ آصف نے جو لفظ کل استعمال کیا، میں سیاست ایسے الفاظ کے استعمال پر تنقید کرناچاہتاتھامگر عمران کی غلیظ زبان سن کر وہ لفظ بہت چھوٹا لگ رہاہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں