بریکنگ نیوز: قطر اور سعودی عرب کے تنازع کا ڈراپ سین قریب ۔۔۔۔جلد خطے کے لوگوں کو کیا خوشخبری ملنے والی ہے ؟ بڑی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے عندیہ دیا ہے کہ قطر کے ساتھ تین برس سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔نجی ٹی وی چینل کےمطابق واشنگٹن میں امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں فیصل بن فرحان نے کہا کہ

قطر کے ساتھ دیگر ممالک کے تنازع حل کرنے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 2017 میں قطر پر ٹیررسٹ تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے تعلقات ختم کردیے تھے۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی نامی تھنک ٹینک سے ورچوئل خطاب میں کہا تھا کہ ‘ہم تنازع کا حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ تعلقات کے خواہش مند ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ بھی اسی طرح پرعزم ہوں گے’۔فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں حفاظتی معاملات سے متعلق تحفظات کو ختم کرنا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے ایک راستہ موجود ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم حفاظتی خدشات دور کرنے کے لیے راستہ نکالنے میں کامیاب ہوئے تو ہم فیصلہ کرپائیں گے اور یہ خطے کے لیے اچھی خبر ہوگی’۔سعودی عرب کے اتحادیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو قطر کی جانب سے مسلسل مسترد کیا جاتا رہا ہے اور ان پر ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کا بھی الزام ہے۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے اختلافات ختم کرنے اور ایران کے خلاف خلیج میں اتحاد قائم کرنے کے لیے متعدد اور سنجیدہ کوششیں کی جاچکی ہیں۔

قطر کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مطالبات مسترد ہونے پر امریکی کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کہہ چکے ہیں کہ ان کی ریاست سفارتی بحران حل کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے، لیکن ان کی خود مختاری کا احترام ہونا چاہیے۔رواں برس جون میں کویت نے خلیجی ممالک کے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور امید ظاہر کی تھی کہ تنازع حل ہونے کی طرف جارہا ہے۔متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے بعد خطے میں معاملات نیا رخ اختیار کر گئے اور سعودی اتحادیوں پر تنقید کی گئی۔واضح رہے کہ دو روز قبل ہی امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو ترغیب دی تھی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں جس سے دیگر خلیجی ممالک کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔پومپیو کا کہنا تھا کہ ہمارا مشترکہ مقصد خطے میں امن و سلامتی ہے۔انہوں نے سعودی عرب کے حوالے سے کہا تھا کہ ‘وہ خطے کے بدلتے حالات کا موجب ہیں اور یہ ممالک ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے اور علاقائی تعاون کی ضرورت کو صحیح سمجھتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی تعلقات قائم کرنے پر سوچے گا، ابراہم معاہدے (متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل سے معاہدے) کی کامیابی کے لیے ان کی اب تک کی گئی کوششوں پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں