دل کے مریضوں کے لیے شاندار خبر : پاکستان میں دل کےاسٹنٹ بننا شروع ، قیمت میں کتنے فیصد کمی ؟ بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مقامی سطح دل کے اسٹنٹ بنانے سے نہ صرف ساٹھ فیصد کی اس کی قیمت کم ہوگی بلکہ جولوگ دل کاعلاج کرانے باہرجاتے اور پھر آتے بھی نہیں ان کو بھی فائدہ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نسٹ

یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دل کے اسٹنٹ بنانے سے پاکستان کوبہت فائدہ ہوگا اور مقامی طورپراسٹنٹ کی تیاری سے نہ صرف قیمت میں60فیصد کمی آئے بلکہ جو لوگ علاج کرانے باہر جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے ان کو بھی فائدہ ہوگا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکٹرومیگنیٹ کی پہلی کھیپ فیصل آبادمیں تیارہورہی ہیں، میڈ ان پاکستان کوبین الاقومی سطح پر متعارف کروایں گے، روایتی آلو مٹر بھیج کر خسارے پورے نہیں ہوسکتے، ہمارا مستقبل علم اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا ہماری حکومت نے آکراپنی معیشت کو امپورٹ بیس بنادیا ہے ، کورونا سےپہلے ہم حفاظتی سامان خود نہیں بنارہے تھے ، پاکستان میں پہلا کیس آیا تو ہم ماسک ، شیلڈ امپورٹ نہیں کررہے تھے۔اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ یہ اسٹنٹ یورپین اسٹنڈرڈزکے مطابق ہیں اور پاکستان چندممالک میں شامل ہوگیاجواسٹنٹ بنانےکی ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کل نسٹ یونیورسٹی کا دورہ کریں گے، وہ دل کےامراض کے اسٹنٹ تیار کرنیوالے یونٹ کا افتتاح کرینگے، اسٹنٹ کی تیاری سے پاکستان کو 8 ارب روپے کی سالانہ بچت ہوگی۔ہارٹ اسٹنٹ تیاری میں مسلم ممالک میں ترکی کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے، جنوبی ایشیائی ممالک میں بھارت کے بعد پاکستان میں اسٹنٹ تیار ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کل اسٹنٹ تیاری کے عمل اور طلبا سے خطاب بھی کریں گے، عمران خان کل یونیورسٹی میں لیبارٹری کا دورہ بھی کریں گے۔ہارٹ سرجری میں اسٹنٹ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟دل انسانی جسم کا اہم ترین حصہ گردانا جاتا ہے۔ پورے جسم میں خون کی گردش کا دارومدار اسی دل پر ہوتا ہے۔ خون جن نالیوں سے گزرتا ہے اُنہیں شریانیں کہتے ہیں۔ اگر ان شریانوں میں خون کا بہاؤ ممکن نہ رہے تو ڈاکٹر آپریشن کے ذریعے ایک مصنوعی نالی ڈال دیتے ہیں اسی کو اسٹنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ اب آپ خود جان سکتے ہیں اسٹنٹ کا کتنا اہم کردار ہے۔جسم میں خون کا بہاؤ شریانوں کی دوبارہ بحالی تک اسی اسٹنٹ پر ہوتا ہے۔ اگر یہ اسٹنٹ ناقص ہو یا غیررجسٹرڈ ہو گا تو مریض کے زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے چانس بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اسٹنٹ کئی قسم کے ہوتے ہیں کچھ اسٹنٹ ساری عمر شریانوں میں لگے رہتے ہیں۔ کچھ اسٹنٹ اس وقت تک لگائے جاتے ہیں جب تک شریانیں اس قابل نہ ہوجائیں کہ خون کا بہاؤ نارمل کرسکیں۔اس میں ایک ہفتہ، مہینہ یا کئی سال بھی لگ سکتے ہیں، اسٹنٹ دھات سے بنائے جاتے ہیں، جدید تحقیق میں اب دھات کی بجائے حساس دھاگوں سے بھی اسٹنٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں