آپ کی ساری نوکری غیر قانونی ہے ۔۔۔!! 2 روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی اے ایف کے سابق ونگ کمانڈر کو یہ بات کہی گئی تو کیا حیران کن واقعہ پیش آیا ؟ جانیےاسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں سابق ونگ کمانڈر احسن طفیل کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے سخت ریمارکس پر سابق ونگ کمانڈر احسن طفیل لڑکھڑا کر گر پڑے۔ عدالتی کارروائی ملتوی کر کے ڈاکٹر بلا کر سابق ونگ کمانڈر کو ہوش دلایا گیا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار احسن طفیل نے عدالت کے رو بر و موقف اپنایا کہ میری خدمات ایئرپورٹ فورس سے بلوچستان حکومت کو دیدی گئی تھیں، بلوچستان حکومت مجھے پنشن نہیں دے رہی، میں نے 27سال حکومت کو خدمات دی ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ خود کو بہت سمجھدار سمجھ رہے ہیں،پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قانون کے تابع ہے، وائس ایئر چیف آپ کی خدمات کیسے کسی صوبے کو دے سکتا ہے، کس قانون کے تحت آپکی خدمات صوبے کو دی گئیں؟ کیا اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا آپکو بلوچستان میں جس عہدے پر بھیجا گیا،اگر ہم نے میرٹ پر بات کی تو آپکی بلوچستان میں نو کر ی غیر قانونی قرار پائیگی۔ وکیل بلوچستان حکومت نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ احسن طفیل ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بطور کنٹر یکٹ ملازم بلوچستان حکومت میں آئے اور صرف سوا سال خدمات انجام دیں، صوبائی حکومت کی سیمولیٹر کی مہنگی ٹریننگ لینے کے بعد انھو ں نے ایک پرائیویٹ ادارہ جوائن کرلیا،بلوچستان حکومت کے اکیس لاکھ روپے انکی ٹریننگ پر لگے وہ واپس دلوائے جائیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ان کی کوشش کے باوجود ایئر فورس حکام سے رابطہ نہیں ہوسکا، کچھ وقت دیدیں ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لیکر آگاہ کروں گا،بلوچستان حکومت ریٹائرمنٹ کی دستاویزات نہیں دے رہی، اسلئے ایئر فورس پنشن نہیں دے رہی، عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں سابق ونگ کمانڈر احسن طفیل کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے سخت ریمارکس پر سابق ونگ کمانڈر احسن طفیل لڑکھڑا کر گر پڑے۔ عدالتی کارروائی ملتوی کر کے ڈاکٹر بلا کر سابق ونگ کمانڈر کو ہوش دلایا گیا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت

درخواست گزار احسن طفیل نے عدالت کے رو بر و موقف اپنایا کہ میری خدمات ایئرپورٹ فورس سے بلوچستان حکومت کو دیدی گئی تھیں، بلوچستان حکومت مجھے پنشن نہیں دے رہی، میں نے 27سال حکومت کو خدمات دی ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ خود کو بہت سمجھدار سمجھ رہے ہیں،پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قانون کے تابع ہے، وائس ایئر چیف آپ کی خدمات کیسے کسی صوبے کو دے سکتا ہے، کس قانون کے تحت آپکی خدمات صوبے کو دی گئیں؟ کیا اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا آپکو بلوچستان میں جس عہدے پر بھیجا گیا،اگر ہم نے میرٹ پر بات کی تو آپکی بلوچستان میں نو کر ی غیر قانونی قرار پائیگی۔ وکیل بلوچستان حکومت نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ احسن طفیل ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بطور کنٹر یکٹ ملازم بلوچستان حکومت میں آئے اور صرف سوا سال خدمات انجام دیں، صوبائی حکومت کی سیمولیٹر کی مہنگی ٹریننگ لینے کے بعد انھو ں نے ایک پرائیویٹ ادارہ جوائن کرلیا،بلوچستان حکومت کے اکیس لاکھ روپے انکی ٹریننگ پر لگے وہ واپس دلوائے جائیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ان کی کوشش کے باوجود ایئر فورس حکام سے رابطہ نہیں ہوسکا، کچھ وقت دیدیں ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لیکر آگاہ کروں گا،بلوچستان حکومت ریٹائرمنٹ کی دستاویزات نہیں دے رہی، اسلئے ایئر فورس پنشن نہیں دے رہی، عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں