زبان سنبھال کر بات کرو ورنہ مار کھاؤ گے ۔۔۔۔!!! عمران خان اور عثمان بزدار کے لاڈلے عمر شیخ کے پلے کچھ نہ رہا ۔۔۔ 2 روز قبل پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے حیران کن تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک)سی سی پی او عمر شیخ نے ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار سے جھگڑے پر انکی گرفتاری کا حکم دیدیا تاہم عاصم افتخار غصے میں میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ ا یس پی سی آئی اے سے شدید تلخ کلامی کے دوران ایس پی سی آئی نے مبینہ طور پر سی سی پی او

کو منہ پر مکا مارنے کی وارننگ دی، سی سی پی او مبینہ طور پر ڈر کر کرسی کے پیچھے چھپ گئے،تاہم پولیس کے کسی آفیسر اور ترجمان نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ذر ا ئع کے مطابق عابد ملہی کیس پر اعتماد میں نہ لینے پر سی سی پی او عمر شیخ نے بد ھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریبا ً رات دو بجے ایس پی سی آئی اے کو فوری سیف سٹی کے دفتر طلب کیا۔ لیٹ ہونے پر ایس پی سی آئی اے کی گرفتاری کے احکامات دیدیے۔ سی سی پی او کے سامنے پیش ہونے پر تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ سی سی پی او لاہور اور ایس پی سی آئی اے میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سی سی پی او نے بدتمیزی کی انتہا کی تو ایس پی سی آئی اے کھڑے ہوگئے۔ سی سی پی او نے ایس پی سے کہا تم تاخیر سے آئے ہو گرفتار کرلیں اس کو، اس پر عاصم افتخار کا کہنا تھا تمیز سے بات کرو میں کوئی کانسٹیبل نہیں، مکا رسید کر دوں گا، ایس پی سی آئی اے کی وارننگ پر سربراہ لاہور پولیس عمر شیخ کرسی کے پیچھے چھپ گئے، جبکہ عاصم افتخار میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ سی سی پی او نے عاصم افتخار سے تمام مراعات واپس لینے کے احکامات دیئے۔ عمر شیخ نے ایس پی سول لائنز کو بلا کر اندراج مقدمہ کا استغاثہ لکھ دیا جبکہ افسران کی مداخلت پر استغاثہ پر تاحال کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے سی سی پی او کی جانب سے ایس پی سی آئی اے کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں