ہندو لڑکیوں کی مسلمان نوجوانوں سے شادیوں میں اضافے کو روکنے کے لیے بھارتیوں نے کیا قدم اٹھا لیا ؟ حیران کن خبر

لاہور(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں بی جے پی کی حکومت نے ہندو لڑکیوں کی مسلمانوں سے شادیوں کیخلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔بی جے پی کی حکومت ہندو لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادیوں کے بڑھتے رجحان پر سٹپٹا گئی ہے اور اسے لو جہاد کا نام دے کر روکنے کا اعلان کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاستی وزیر خزانہ و صحت ہیمنت بسما شرما نے کہا کہ آسام میں ہندو لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے،

جسے روکا جائے گا۔ہم ایسے کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ہیمنت نے کہا کہ مسلمان لڑکے فیس بک پر ہندو لڑکیوں سے دوستیاں کرتے ہیں اور پھر یہ دوستیاں شادیوں میں بدل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مسلمان لڑکوں سے بچانے کے لیے ایسی شادیوں کے خلاف لڑیں گے۔مسلمان لڑکے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو ورغلا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اب انہیں بطانے کے لئے میدان میں آنا پڑے گا،یاد رہے کہ بھارت میں زیورات کے اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو لڑکی کو بہو کے طور پر دکھائے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا، جس کے بعد کمپنی نے اشتہار کی ویڈیو ہٹادی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں شمار ہونیوالے ’ٹاٹا‘ گروپ کی زیورات سےمتعلق ذیلی کمپنی کے اشتہار پر شرپسند افراد نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ٹاٹا گروپ کی ذیلی کمپنی ’تنشق‘ نے 12 اکتوبر کو زیورات کا ایک مختصر اشتہار جاری کیا تھا، جس میں ایک ہندو خاتون کو مسلمان گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ مذکورہ اشتہار جاری کیے جانے کے بعد ابتدائی طور پر شرپسندہندوؤں نے اعتراض کرتے ہوئے اشتہار کو ’لو جہاد‘ قرار دے کر زیورات کی کمپنی پر سخت تنقید کی۔اشتہار کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹوئٹر پر بھی ’بائیکاٹ تنشق‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آگیا اور اشتہار کے حق اور مخالفت میں سیاستدان، صحافی، سماجی رہنما اور معروف میڈیا پرسنالٹیز بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرنے لگیں۔سوشل میڈیا پر شرپسند ہندوؤں کی سخت تنقید کے بعد اگرچہ زیورات کمپنی نے ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹادیا، تاہم اس کے باوجود مذکورہ اشتہار پر بحث و تنازع جاری ہے ۔تنشق جیولرز کی جانب سے سوشل میڈیا پرجاری معافی نامے میں وضاحت کی گئی کہ اشتہار بنانے کا مقصد ملک میں مختلف نظریات اور طبقات سے وابستہ افراد کو اتحاد کے طور پر دکھانا تھا تاہم ویڈیو کا مواد بعض افراد کیلئے تکلیف کا باعث بنا، جس پر کمپنی معافی کی طلب گار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں