عجب کرپشن کی غضب کہانی:شریف فیملی کی اپنے ملازمین کےاکاؤنٹس سے 15 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ ، طریقہ واردات جان کر آپ بھی سر پکڑ لیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے شریف فیملی کی کرپشن کا کچہ چٹھہ کھول دیا اور کہا 12 ملازمین کےاکاؤنٹس سے 15 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی جبکہ ملازمین کے نام پر جعلی کمپنیاں بنائی گئیں۔تفصیلات کے مطابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شریف فیملی

کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے کہا کہ 7ارب کےاثاثوں سےمتعلق ریفرنس فائل ہوچکاہے، جب تفتیش شروع ہوتی ہےتوکافی چیزیں سامنےآتی ہیں، دعویٰ کرتاہوں جوچیزیں پیش کروں گان کاجواب نہیں ہوگا۔مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ آج بھی قوم کوگمراہ کرنےکی کوشش کرتےہیں، عدالت میں چائنا کے حبیب جالب نظرآتےہیں، شہبازشریف اورخاندان کی مزید چیزیں شیئرکرنا چاہتا ہوں، کاروبارکےبھیس میں کک بیکس،کرپشن وصولی کی جاتی تھی، ان چیزوں کےواضح ثبوت ہمارےپاس موجودہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شواہد سامنے آنے سے یہ لوگ جھنجھلائے ہوئے ہیں، کرتوت ان کے پکڑے جارہے ہیں، بھیس بدلنے کا الزام مجھ پرلگارہےہیں، العربیہ اور رمضان شوگرملزکی 10سالوں پرمحیط چیزوں کاجائزہ لیاگیا تو پتہ چلا ملازمین کے بے نامی اکاؤنٹس میں اربوں کی ٹرانزیکشن ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ 12ملازمین کےاکاؤنٹس سے15ارب سےزائدکی منی لانڈرنگ کی گئی جبکہ کچھ اورملازمین کےنام پرجعلی کمپنیاں بنائی گئیں، ملک مقصود نامی چپراسی کے اکاؤنٹ سے دو سال میں 3.7ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی، ٹی ٹی کیس کاآغازہونے پر ملک مقصود فرار ہوگیا۔مشیر داخلہ نے کہا کہ محمداسلم کےاکاونٹ میں 2.3ارب روپے ، غلام شبرکےاکاؤنٹ میں1.57ارب ، خضرحیات کےاکاؤنٹ میں 1.42ارب ، محمد انور کے اکاؤنٹ کے میں 88 کروڑ ، توقیر الدین کے اکاؤنٹ میں 56 کروڑ اور کاشف کے اکاؤنٹ کے 46 کروڑجمع کرائے گئے۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چپراسی گلزارکےاکاؤنٹ میں 2012سے2017تک42کروڑسےزائدجمع کرائےگئے، چپراسی 2015میں فوت ہوگیاپھربھی اکاؤنٹ میں پیسےآتےرہے جبکہ مسرور انور کے اکاؤنٹ میں 23 کروڑ سے زائد آئے، ان تمام اکاؤنٹ کوسلیمان شہبازاور اکاؤنٹنٹ عثمان دیکھتا تھا۔انھوں نے مزید کہا صرف 3ارب کاکاروبارسےتعلق ہونےکاشبہ ہے،

دھونس دھاندلی،ٹھیکوں کی مدمیں رقوم وصول کی گئیں، ایک شخص نےقبول کیاکہ اس نےچیک خودوزیراعلیٰ ہاؤس میں جاکردیا، بینک ملازمین کوساتھ ملا کرایک متوازی بینکنگ نظام کھڑاکیاگیا، کالا دھن نظام میں داخل کرکے سفید کرلیا جاتا تھا۔مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 60ارب روپےان کی کمپنیوں میں ڈالےگئے، جو ایس ای سی پی اورایف بی آرمیں رجسٹرنہیں، الفقری ٹریڈرزچنیوٹ کےتاجرکےنام پرکھولی گئی ، 2.8ارب الفقری ٹریڈرزکےاکاؤنٹ میں آئی۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ وارث ٹریڈزرمضان شوگرکےچپراسی کےنام پرکھولی گئی، راشدٹریڈرزکےاکاؤنٹ میں لگ بھگ ایک ارب آئے، 558ملین جامی انٹر پرائزز کے نام کے اکاؤنٹ میں آئے، اکاؤنٹس سےچھوٹی رقوم نکالی جاتی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ابھی تو دروازے کھلے ہیں فرانزک سے جو سامنے آئے گا، وہ ان کو پتہ ہے، شہباز شریف کے پاس وقت بہت ہے، سوالات کیے جوابات نہیں ملے، مجھے پتہ چلا ہے کہ شہبازشریف خفیہ ملاقاتیں کررہےہیں، کیا شہبازشریف مسرورانوراورشعیب قمرکونہیں جانتے؟مشیر داخلہ نے کہا کہ الفخری ٹریڈرزچنیوٹ کےتاجرکےنام پرکھولی گئی ، 2.8ارب الفخری ٹریڈرزکےاکاؤنٹ میں آئی، شہبازشریف لانگ بوٹ پہن کرایک ایک چپے کا جائزہ لیتے تھے ، کیا ان کو اپنے اکاؤنٹس کا نہیں پتہ تھا کہ کیسے پیسے آجاتے تھے۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہبازشریف بتائیں لندن میں 4فلیٹس کیسےلیے، جب آپ کےپاس کوئی ذرائع آمدن نہیں تھےفلیٹ کیسےبنائے، شہبازشریف خاندان کے 12 افراد لندن میں گزر بسر کیسے کررہےہیں، اگرکرایہ نہیں دیتےتوان کی جائیدادیں لندن میں کیسےبنیں۔انھوں نے کہا کہ شہبازشریف بتائیں کیاان کاخاندان برطانیہ کی شہریت حاصل نہیں کرچکا، کیا سلیمان شہباز برطانیہ کی شہریت نہیں لے چکے، ان لوگوں نے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ہے۔گوجرانوالہ جلسے کے حوالے سے مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جلسہ کریں تو اپنے خرچے پر کریں ، کارکنوں کی پیسے دینے کی ڈیوٹی لگا دی ہے، حکومت پنجاب نے کل عوامی اجتماع سے متعلق ایس اوپی جاری کیے ، کھلی جگہ پرجلسہ کریں بے شک لاکھوں لوگ لے آئیں، ان کی خواہش تھی کہ تنگ جگہ پرجلسہ کریں تاکہ لوگ زیادہ نظر آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں