عابد ملہی خود میرے پاس آیا اور ایک گھنٹہ بیٹھا رہا ، لیکن جب میں نے پولیس والوں کو فون کیا تو ۔۔۔۔۔ اپنے علاقے کی مشہور اور بااثر شخصیت خالد بٹ کے انکشافات نے معاملہ کو نیا رُخ دے دیا

مانگا منڈی (ویب ڈیسک) موٹروے بداخلاقی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری خالد بٹ کی محنت کا نتیجہ ہے حکومت نے کریڈٹ اور پچاس لاکھ روپے کی انعامی رقم پولیس کو دیدی،ذرائع کے مطابق عابد ملہی ایک گھنٹہ خالد بٹ کے پاس رہا،واقعہ کے متعلق مکمل پوچھ گچھ کے

بعد انہوں نے ڈی ایس پی حسنین حیدر سے رابطہ کیا جس نے مانگامنڈی پولیس کو سول وردی میں عابد ملہی کے والد کے گھر کے باہر تعینات کر دیا۔ ذرائع کے مطابق خالد بٹ کے حسنین حیدر سے ذاتی تعلقات بھی ہیں خالد بٹ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری میں اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ عابد ملہی کے والد ان کی سکیم میں رہائش پذیر ہیں اکبر ملہی نے پولیس کے زیر حراست اپنے بے گناہ افراد کو خالد بٹ کے ذریعے چھڑایا بھی تھا اس لئے اکبر ملہی کو اعتماد تھا کہ میرے بیٹے کو با حفاظت خالد بٹ ہی پولیس کے حوالے کر سکتا ہے عابد ملہی جیسے ہی مانگامنڈی آیا اور انہوں نے خالد بٹ سے رابطہ کیا جس نے با حفاظت ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا خالد بٹ نے دوران گفتگو کہاکہ آئی جی پنجاب کو پریس کانفرنس کرتے وقت خالد بٹ کے کردار کو سراہنا چاہیے تھا مگر افسوس وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار سمیت کسی حکومتی ادارے نے ان کی تعریف نہیں کی بلکہ سارا کریڈٹ پولیس کو دے دیا۔ڈی ایس پی حسنین حیدر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ملزم عا بد ملہی کا باپ محمد اکبر جھوٹ بول رہا ہے ہم نے اپنی کا وشوں سے ملزم کو اس کے گھر ما نگا منڈی سے گرفتار کیا ہما رے اہل کار تقریبا آٹھ گھنٹے کے قریب دن رات اس کے والد کے گھر کی ریکی کر تے تھے جب ملزم عابد اپنے وا لد کے گھر شام کو آیا تو اس وقت ہمارے پو لیس کے چا ر اہل کار موجود تھے جب انہوں نے گر فتا ر کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں