پشاور بی آر ٹی بسوں میں آگ لگنے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ چینی کمپنی کے انکشاف نے پاکستانیوں کو چونکا کر رکھ دیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی کمپنی نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) بسوں میں آگ لگنےکےواقعات کی رپورٹ خیبر پختونخوا حکومت کو پیش کردی، آگ لگنےکی وجہ غیرمتوقع، غیرمعمولی بیرونی حالات اور کم گنجائش کے کیپیسیٹر قرار دیے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ پر چینی کمپنی نے کہا ہے

کہ تمام آلات کی تبدیلی اور آزمائشی بنیادوں پربسیں چلا کر بی آر ٹی بس سروس 25 اکتوبر تک بحال کردی جائے گی۔چینی کمپنی نے کہا ہے کہ معاہدے کے مطابق تمام بسوں کی ذمہ داری لیتے ہیں۔دوسری جانب ترجمان ٹرانس پشاور نے کہا ہے کہ چینی کمپنی بسوں میں پرزوں کی تبدیلی کے اضافی چارجز نہیں لے گی۔ٹرانس پشاور کا کہنا ہے کہ کرنٹ کی غیرمعمولی ترسیل کے باعث کیپیسٹر کی کارکردگی متاثرہوئی، شارٹ سرکٹ بسوں میں آگ لگنے کا باعث بنا۔ترجمان کے مطابق بس کمپنی نے ان تمام مسائل کا دیرپا حل تلاش کرلیا ہے، بسوں کے موٹر کنٹرولرز کو اپڈیٹ اور تبدیل کیا جارہا ہے، بی آر ٹی کی بسیں اور ان کے پرزہ جات وارنٹی کے ساتھ لیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ 16 ستمبر کو بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور کی بسوں میں آگ لگنے کے پے در پے واقعات کے باعث سروس عارضی طور پر معطل کردی گئی تھی۔بی آر ٹی منصوبے کے آغاز کو ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ بسوں میں آتشزدگی اور خرابی کے کئی واقعات سامنے آنے پر سروس معطل کردی گئی۔ بی آر ٹی کی بسیں اور ان کے پرزہ جات وارنٹی کے ساتھ لیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ 16 ستمبر کو بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور کی بسوں میں آگ لگنے کے پے در پے واقعات کے باعث سروس عارضی طور پر معطل کردی گئی تھی۔بی آر ٹی منصوبے کے آغاز کو ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ بسوں میں آتشزدگی اور خرابی کے کئی واقعات سامنے آنے پر سروس معطل کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں